دعوت اور اقدام کا فرق
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۲
دعوت اور اقدام کا فرق
"میں نے لوگوں کو حق کی طرف پکار امگر سننے والوں نے نہ مانا تو میرا اس میں ک قصور۔ "
"میں نے حق کی خاطر عملی اقدام کیا، مگر لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے اقدام کامیاب نہ ہوسکا تو میرا اس میں کیا قصور۔ " قواعد کی رو سے دونوں جملے یکساں طور پر درست ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے پہلا جملہ سراسر صحیح اور دوسرا جملہ سراسر غلط ہے۔ دعوت کا مقصو د سنانا ہوتا ہے اور عملی اقدام کا مقصود نتیجہ پیدا کرنا۔ اس لئے دونوں کو جانچنے کا معیار ایسا نہیں ہوسکتا۔ دعوت کو صرف دعوت کے پیمانہ پر دیکھا جائے گا اور اقدام کو عمل کے پیمانہ پر۔ داعی صرف پکارنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس سے جس بات کا تقاضا کیا جائے گا وہ صرف یہ ہے کہ وہ صحیح بات کی طرف پکارے اور پکارنے میں صحیح انداز اختیار کرے ۔ نہ اس کے نشانہ دعوت میں غلطی ہو اور نہ طریق دعوت میں۔ اس کے بعد جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، اس کی کوئی ذمہ داری داعی پر نہیں۔ اگر اس نے صحیح بات کی طرف لوگوں کو بلایا یا ہو اور بلانے کے لئے وہی انداز اختیار کیا ہو جو خدا اور رسول کے مطابق صحیح انداز ہے تو وہ صد فی صد کامیاب ہے، خواہ کسی ایک آدمی نے بھی اس کی بات کو نہ مانا ہو۔ مگر عملی اقدام کرنے والے کا معاملہ مکمل طور پر اس سے مختلف ہے۔ عملی اقدام اس لئے ہوتا ہے کہ ایک سماجی ڈھانچہ کو اکھاڑ کر دوسرا سماجی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔ اس میں ایک طرف کچھ موجود لوگوں کو اختیار کے مقام سے ہٹانا اور کچھ دوسرے لوگوں کو اختیار کے مقام پر بٹھانا ہوتا ہے۔ دعوتی کام میں منصوبہ کی تکمیل کا دار ومدار صرف ایک شخص (داعی) کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ جب کہ عملی اقدام میں لازمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ متحدہ طور پر کارکردگی کا ثبوت دیں، ور نہ عملی اقدام کامیاب نہیں ہوگا بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا۔
اگر آپ کسی سے یہ کہنے جارہے ہوں کہ تم محنت کر کے اپنی خود کفیل معاش پیدا کرو تو اس کے لئے آپ کا مخلص ہونا کافی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی کو یہ مشورہ دیں کہ تم اپنا گھر بار بیچ کر یہی چلے جاؤ، وہاں تمھارے لئے بہترین گھر بھی ہے اور کاروبار بھی، تو ایسے مشورہ کے لئے آدمی کا مخلص ہونا کافی نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آدمی اس مشورہ کے عملی نتائج کو جانے۔ جو شخص اس مشورہ کے عملی نتائج سے بے خبر ہو اس کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنی زبان بند رکھے۔ کیوں کہ اس قسم کا مشورہ بے خبری کے ساتھ دینا جرم کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک شخص فن تعمیر سے نا واقف ہے۔ وہ گھر بنانے کے لئے دیواریں اٹھاتا ہے اور اس کے اوپر مٹی کے گارے سے سنٹر اور سلیب جوڑ دیتا ہے، اس کے بعد جب سانچہ بنایا جاتا ہے تو چھت گر پڑتی ہے۔ اب ایک شخص اگر یہ کہے تو کوئی اس کے کہنے کو نہیں سنے گا کہ مجھے معلوم نہ تھا کہ مٹی کاگار انٹز کو نہیں سنبھالے گا۔ میں نے تو نیک نیتی کے ساتھ ایک صحیح کام کیا تھا۔ اب اگر چھت گرپڑی تو اس میں میرا کیا قصور۔ ہر آدمی یہ کہے گا کہ مکان کھڑا کرنا کوئی کھیل تماشانہیں ہے۔ اگر تم فن تعمیر سے واقف نہ تھے تو تم اپنے گھر میں بیٹھتے، تم کو معمار بننے کی ضرورت کیا تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ عملی اقدام کا معاملہ حد درجہ نازک معاملہ ہے۔ عملی اقدام میں صرف نیک نیتی یا مقصد کی درستگی کافی نہیں۔ اسی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جو شخص عملی اقدام کے لئے اٹھا ہے کیا اس کے پاس اتنی طاقت ہے