Al-Risala · May 1980 · page 13

دعوت اور اقدام کا فرق

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۳

کہ وہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ مزید یہ کہ اگر وہ اکھیڑ پچھاڑ کے ذریعہ موجود لوگوں کو ہٹانے میں کامیاب ہو جائے تو کیا خود اقدام کرنے والے کے پاس ایسے افراد موجود ہیں جن کو وہاں بٹھایا جائے تو وہ پچھلے نظام سے زیادہ نظام قائم کرکے اس کو چلا سکیں ۔ دونوں میں سے کوئی ایک چیز بھی اگر موجود نہ ہو تو عملی اقدام محض ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا بنا بنایا پختہ گھرگرا نا شروع کر دے۔ حالاں کہ اس کے پاس وہ ضروری سامان موجود نہ ہو جس کے ذریعہ وہ دوسرا گھر بہتر بنا سکے۔

اگر اپنا ذاتی معاملہ ہو تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ جو شخص مٹی، در سیمنٹ یا کچی اور پکی اینٹوں کا فرق نہ جانے اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ گھر کا معمار بن کر کھڑا ہو جائے۔ اس قسم کی بے خبری کے ساتھ کوئی شخص معمار بننے کی ہمت نہیں کرے گا، اور اگر کوئی نادان شخص ایسی جرات کرے تو لوگ کبھی اس کو نہیں بخشیں گے۔ اس کا عمل اس کو الٹا مجرم ثابت کرنے والا بن جائے گا نہ کہ لوگوں کی نظر میں کسی انعام کا مستحق قرار پائے۔ مگر قومی وملی معاملات میں اس قسم کے معمار بہت بڑی تعداد میں میدانِ عمل میں کودتے ہیں، وہ مٹی کے گارے سے چھت جوڑتے ہیں مگر عوام کی طرف سے ان کو بڑے بڑے خطابات اور شان دار اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ذاتی معاملہ میں اقدام کے بعد آدمی نتیجہ کو بھی ضرور دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر عملی معاملہ میں اقدام کرنا ہو تو نتیجہ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں صرف ایک پرشور اقدام کرنا کافی ہے خواہ اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے یا الٹا نتیجہ برآمد ہو۔

دردِ سر اور دردِ گھر دونوں بہت ملتے جلتے الفاظ ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سر کے درد کا علاج اگر طبی گولی سے ہو جاتا ہے تو گھر کا درد بھی ایک گولی سے ختم ہو جائے گا۔ دونوں لفظوں کا ماں جلتا ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ دونوں کا معاملہ ایک ہے اور دونوں کو ایک ڈھنگ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہمارے مصلحین اکثر اپنے اصلاحی منصوبہ میں یہی غلطی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ منصوبہ اپنی تکمیل کے مرحلہ میں پہنچ کر بھی کوئی حقیقی نتیجہ پیدا نہیں کرتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ "قومی اقدام" جس طرح ہر حال میں ایک درست کام ہے اسی طرح "عملی اقدام" بھی ہر حال میں کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ کوئی اقدام اور عملی اقدام ایک دوسرے سے بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ لفظی اشتراک کے سوا ان میں کوئی نسبت نہیں۔

ایک درخت کہیں رکاوٹ ڈال رہا ہو اور آپ کی تجویز یہ ہو کہ اس کو کاٹ دیا جائے تو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ اس کو کاٹ دو۔ لیکن اگر آپ اس کو بالفعل کاٹنے لگیں تو بہت سے اور پہلوؤں کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً یہ کہ درخت جب کٹ کر گرے تو وہ آپ کے سر پر نہ گرے۔ بلکہ خالی زمین میں گرے ۔ اگر آپ اس قسم کا اہتمام کئے بغیر درخت کاٹنا شروع کر دیں اور درخت کٹ کر آپ کے سر پر گر پڑے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک مسئلہ ختم کرنے کے نام پر دوسرا زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیا۔ اسی طرح ملت کے معاملات میں اقدام سے پہلے اس سے متعلق تمام پہلوؤں کو سمجھنا اور ان کے بارے میں اہتمام کرنا ضروری ہے، ورنہ ملت کی تعمیر کے نام پر ایک " درخت " گرایا جائے گا اور عملاً صرف یہ ہوگا کہ ملت کی تعمیر تو نہ ہوگی، البتہ بہت سے لوگوں کے سر ٹوٹ جائیں گے۔ آپ کا اقدام صرف نئے نئے مسئلے پیدا کرے گا مزید اس قیمت پر کہ اصل مسئلہ بدستور باقی رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page