قرآن کو سمجھنے کے لئے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴
قرآن کو سمجھنے کے لئے
قرآن فکری کتاب ہے اور فکری کتاب میں ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیر کا گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پڑھے والا خالی الذہن ہو۔ اگر پڑھنے والے کا ذہن خالی نہ ہو تو وہ قرآن میں خود اپنی بات پڑھنے گا۔ اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک آیت کی مثال لیجئے :
ومن الناس من یتخذ من دون الله اندادا کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مقابل یحبونهم كحب الله والذين آمنوا اشد حبا بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ الله بقره ١٦٥ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ حالاں کہ ایمان رکھنے والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔
ایک شخص جو سیاسی ذوق رکھتا ہو اور سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کو کام سمجھتا ہو وہ جب اس آیت کو پڑھے گا تو اس کا ذہن پوری آیت میں بس انداد (مد مقابل) پر رک جائے گا۔ وہ قرآن سے ” مد مقابل “ کا لفظ لے لے گا اور بقیہ مفہوم کو اپنے ذہن سے جوڑ کر کہے گا کہ اس سے مراد سیاسی مد مقابل ٹھہرانا ہے، اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آدمی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کو خدا کا سیاسی مد مقابل بنائے۔ اس تشریح کے مطابق یہ آیت اس کے لئے اس بات کی اجازت نامہ بن جائے گی کہ جس کو خدا کا ” سیاسی مد مقابل “ بنا ہوا دیکھے اس سے ٹکراؤ شروع کر دے۔ اس کے برعکس جو آدمی سادہ ذہن کے ساتھ اس کو پڑھے گا وہ انداد کے لفظ پر نہیں رکے گا بلکہ پوری آیت کی روشنی میں اس کا مفہوم متعین کرے گا۔ ایسے شخص کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ یہاں مدِّمقابل ٹھہرانے کی جس صورت کا ذکر ہے وہ باعتبار محبت ہے نہ کہ باعتبار سیاست۔ یعنی آیت یہ کہہ رہی ہے کہ آدمی کو سب سے زیادہ محبت صرف خدا سے کرنا چاہئے۔ ”حب شدید“ کے معاملہ میں کسی دوسرے کو خدا کا ہمسر نہیں بنانا چاہئے۔
قرآن کا ایک عمومی مفہوم ہے اور اس کو سمجھنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خالی الذہن ہو کر قرآن کو پڑھے۔ مگر جو شخص قرآن کے گہرے معانی تک پہنچنا چاہے، اس کو ایک ایک اور شرط پوری کرنی پڑتی ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ اس راہ کا مسافر بنے کا مسافر اس کو قرآن بنانا چاہتا ہے۔ قرآن آدمی کی عملی زندگی کا رہنما ناصب ہے اور کسی علمی کتاب کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی عملاً ان تجربات سے گزرے جن کی طرف اس کتاب میں رہنمائی کی گئی ہے۔ یہ عمل کوئی سیاسی یا سماجی عمل نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر ایک نفسیاتی عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنے نفس کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑتا ہے نہ کہ حقیقتاً کسی خارج کے مقابلہ میں۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی ظاہری دنیا کی سطح پر نہ جئے بلکہ غیب کی دنیا کی سطح پر جئے۔ اس سلسلے میں جن مراحل کی نشان دہی قرآن میں کی گئی ہے ان کو وہ شخص کیسے سمجھ سکتا ہے جو ان مراحل سے آشنا نہ ہوا ہو۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی صرف اللہ سے ڈرے اور صرف اللہ سے محبت کرے، اب جس کا دل اللہ کی محبت میں نہ تڑپا ہو، جس کے بدن کے رونگٹے اللہ کے خوف سے نہ کھڑے ہوئے ہوں وہ کیسے جان سکتا ہے کہ