قرآن کو سمجھنے کے لئے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵
اللہ لے فندا کیا ہے اور اللہ سے محبت کرنا کیا۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی خداعی مشن میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرے کہ وہ اس کو اپنا ذاتی مسکہ بنالے۔ اب جس شخص نے خدا کے کام کو اپنا ذاتی کام نہ بنایا ہو وہ کیوں کر جانے گا کہ خدا کے ساتھ اپنے کو شامل کرنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن یہ چاہتا ہے کہ آدمی انسانوں کے چہرے ہوئے مسئلوں میں گم نہ ہو بلکہ خدا کی طرف سے برسنے والے فیضان میں اپنے کو گم کرے ۔ اب جس شخص پر ایسے صبح وشام ہی نہ گزرے ہوں جب کہ خدا کے فیضان میں وہ نہا اٹھے وہ کیسے سمجھ سکتا ہے کہ خدائی فیضان میں نہانے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی جہنم سے بھاگے اور جنت کی طرف دوڑے۔ اب جو شخص اس طرح زندگی گزارے کہ جہنم کو اس نے اپنا مسئلہ نہ بنایا ہوا ور جنت اس کی ضرورت نہ بنی ہو اس کو کیا معلوم کہ جہنم سے بھاگنا کیا ہوتا ہے اور جنت کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔ قرآن چاہتا ہے کہ آدمی اللہ کی عظمت وکبریائی کے احساس سے سرشار ہو۔ اب جو شخص اپنی عظمت وکبریائی کے مینار میں لذت سے رہا ہو اس کو اس کیفیت کا ادراک کہاں ہو سکتا ہے جب کہ آدمی خدائی کبریائی کو اس طرح پاتا ہے کہ اپنی طرف اس کو عجز کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
قرآنی عمل اصلا نفس یا انسان کے اورونی وجود کی سطح پر ہوتا ہے۔ مگر انسان کسی خلا میں زندگی نہیں گزارتا بلکہ دوسرے بہت سے انسانوں کے درمیان رہتا ہے۔ اس لئے قرآنی عمل باعتبار حقیقت ذاتی عمل ہونے کے باوجود دو پہلوؤں سے دوسرے انسانوں سے بھی متعلق ہو جاتا ہے۔ ایک اس اعتبار سے کہ آدمی جس قرآنی راستہ کو خود اپناتا ہے اسی راستہ کو اختیار کرنے کی وہ دوسروں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک آدمی اندر دوسرے آدمی کے درمیان دائی اور مدعو کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ رشتہ آدمی کو بے شمار تجربات سے گزارتا ہے جو مختلف صورتوں میں آخر وقت تک جاری رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ مختلف قسم کے انسانوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے طرح طرح کے تعلقات ومعاملات پیش آتے ہیں۔ کسی سے لینا ہوتا ہے اور کسی کو دینا، کسی سے اتفاق ہوتا ہے اور کسی سے اختلاف، کسی سے دوری ہوتی ہے اور کسی سے قربت۔ ان مواقع پر آدمی کیا رویہ اختیار کرے اور کس قسم کا رد عمل پیش کرے، قرآن ان امور میں اس کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ اگر آدمی اپنی خواہش پر چلنا چاہے تو قرآنی کا یہ باب اس پر بند رہے گا اور اگر وہ اپنے کو قرآن کی ماتحتی میں دیدے تو اس پر قرآنی تعلیمات کے ایسے بھید کھلیں گے جو کسی اور طرح اس پر کھل نہیں سکتے۔ قرآن آدمی کو جو مشن دیتا ہے وہ حقیقہ کوئی ’’نظام‘‘ قائم کرنے کا مشن نہیں ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو قرآنی کردار کی صورت میں ڈھالنے کا مشن ہے۔ قرآن کا اصل مخاطب فرد ہے نہ کہ سماج۔ اس لئے قرآن کا مشن فرد پر جاری ہوتا ہے نہ کہ سماج پر۔ تاہم افراد کی قابل لحاظ تعداد جب اپنے آپ کو قرآن کے مطابق ڈھالتی ہے تو اس کے سماجی نتائج بھی لازماً نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ یہ نتائج ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے بلکہ حالات کے اعتبار سے ان کی صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ قرآن میں مختلف انبیار کے واقعات انھیں سماجی نتائج یا سماجی رد عمل کے مختلف نمونے ہیں اور اگر عملی تجربات نے آدمی کی آنکھ کھول دی ہو تو وہ ہر صورت حال کی بابت قرآن میں رہنمائی پاتا چلا جاتا ہے ۔ قرآن فطرت انسانی کی کتاب ہے۔ قرآن کو وہی شخص بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے جس کے لئے قرآن اس کی فطرت کا مشنی بن جائے۔