Al-Risala · May 1980 · page 16

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶

حکومت کا تصور

قرآن سے معلوم ہوتا کہ کسی کا حکومت پانا اور کسی کا حکومت سے محروم ہو جانا تمام تر اللہ کے اختیار کی چیز ہے کہو، خدایا ملک کے مالک، تو جس کو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے حکومت چھین لے۔ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے، بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے (آل عمران (۳۶) اس کے بعد دوسری چیز جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ حکومت مسلمانوں کے لئے ایک امر موعود ہے، وہ ان کو اللہ کے انعام کے طور پر ملتی ہے "اللہ نے وعدہ فرمایا۔ بے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا جس طرح پچھلوں کو اقتدار دیا تھا، اور ان کے لئے ان کے دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جس کو اللہ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری بندگی کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں (نور (۵۵) پھر حکومت ملنے کے بعد مسلمان کیا کرتے ہیں، اس کا جواب قرآن کے ان لفظوں میں ملتا ہے "وہ لوگ جن کو ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے۔ زکوٰۃ ادا کریں گے۔ بھلائیوں کا حکم دیں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور تمام معاملات کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے ( حج (۴۱) اوپر کی آیات سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ حکومت کا تعلق اللہ کی مصلحتوں سے ہے جن کے تحت وہ دنیا کا انتظام کر رہا ہے، اپنی انتظامی مصالح کے تحت اللہ کسی سے اقتدار چھینتا ہے اور اس کو کسی کے حوالے کرتا ہے۔ کسی کے پاس حکومت آگئی ہو تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ حکومت ہمیشہ کے لئے اس کی موروثی چیز بن گئی۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ حکومت کو نشانہ بنا کر کوئی جدوجہد چلائی جائے۔ کیوں کہ حکومت کسی کو اپنی جدوجہد کی بنا پر نہیں ملتی۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو خدا کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے اور کسی کو نہیں دی جاتی۔

حکومت کی تقسیم میں اللہ کے یہاں سب سے پہلے جو گروہ قابل ترجیح ہے وہ ہے اہل ایمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے وفادار بندوں کو حکومت و اقتدار عطا کرے گا مگر اس وعدہ کا تعلق کسی نسلی گروہ سے نہیں ہے بلکہ ان اہل ایمان سے ہے جو حقیقی معنوں میں اللہ کے مومن ہوں اور حقیقی معنوں میں عمل صالح کا ثبوت دیں۔ یہ وہ نیک بندے ہیں جو اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کو اپنا مرکز توجہ بنا لیتے ہیں؛ وہ اپنی محبتوں اور عقیدتوں میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنی زندگی کو اسی کی مرضی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے نزدیک اس کے مستحق قرار پاتے ہیں کہ وہ ان کو حکومت و اقتدار عطا کرے۔ یہ حکومت مسلمانوں کے لئے کوئی عہدہ کی چیز نہیں ہوتی بلکہ "ذمہ داری کی چیز ہوتی ہے۔ وہ اقتدار پا کر اور زیادہ جھک جاتے ہیں۔ وہ لوگوں کا استحصال کرنے کے بجائے لوگوں کے لئے نافع بنتے ہیں۔ وہ حکومت کی طاقت کو ذاتی مفادات کی تکمیل میں نہیں لگاتے بلکہ ان اصولوں کے قائم کرنے میں لگاتے ہیں جو اللہ نے تعلیم فرمایا ہے۔ ان کے سامنے جب کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ خواہشوں اور مصلحتوں کے تحت اس کا فیصلہ نہیں کرتے۔ بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے اور جو انصاف کا تقاضا ہو اس کے مطابق اپنا فیصلہ دے دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page