حکومت کا تصور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۸
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں حاکم بنایا ہے پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی وہ کرو کہ وہ تم کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا۔ اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث وہیں پیدا کیا، یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنھوں نے انکار کیا۔ پس جن لوگوں نے انکار کیا ان کے لئے آگ کی خرابی ہے۔ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور ان لوگوں کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں گے۔ کیا ہم ڈرنے والوں کو ڈھیٹ لوگوں کے برابر کردیں گے۔ یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور عقل والے اس سے نصیحت لیں ۲۶ - ۲۹ ہر آدمی کو کہیں نہ کہیں اختیار حاصل ہوتا ہے۔ کسی کے اختیار کا دائرہ چھوٹا ہے اور کسی کا دائرہ بڑا۔ کوئی چھوٹے چھوٹے انفرادی معاملات میں اپنے اختیار کو استعمال کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور کوئی اداروں اور حکومتوں کے بڑے معاملات میں۔ اس طرح ہر شخص کی زندگی میں یہ صورت حال پیش آتی ہے کہ اس کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے اور اس میں اس کو فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ اس فیصلے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اس کو خالص حق کے معیار پر دیکھے اور بے لاگ جائزہ میں جو چیز انصاف نظر آئے اس کے مطابق اپنا فیصلہ دے دے، خواہ وہ اس کی مصلحتوں کے مطابق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ صرف حق کے پہلو کو سامنے رکھے نہ کہ دوسرے دوسرے پہلوؤں کو۔ یہ حق کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب معاملہ سامنے آئے تو آدمی کا ذہن دوسرے دوسرے پہلوؤں سے کام کرنے لگے۔ وہ یہ دیکھے کہ صاحب معاملہ اس کا دوست ہے یا دشمن۔ وہ کمزور اور نا قابلِ لحاظ ہے یا طاقتور اور قابلِ لحاظ۔ اس سے تلخ یادیں وابستہ ہیں یا اس سے اچھے تعلقات ہیں۔ اس نے اپنے مقدمہ کو نرم الفاظ میں پیش کیا ہے یا کڑے الفاظ میں۔ اس کا ساتھ دینا مصلحتوں کے مطابق ہے یا مصلحتوں کے خلاف۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد آدمی کا ذہن ان پہلوؤں کے زیر اثر کام کرنے لگے۔ نہ انصاف کے پہلو کو چھوڑ کر دوسرے پہلوؤں کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ اسی دوسری صورت کا نام خواہش کی پیروی ہے اور یہی زمین میں فساد برپا کرنا ہے، کیوں کہ ایسا کرنا خدا کے اس نقشہ کو بگاڑ نے کے ہم معنی ہے جس کے مطابق خدا نے اس دنیا کو بنایا ہے۔
جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو وہ کبھی حق کا نقصان گوارا نہیں کرے گا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ سارا معاملہ بالاخر اللہ کے یہاں پیش ہونے والا ہے۔ خدا کی عدالت سامنے آتے ہی ہر دوسری چیز باطل ہو جائے گی اور نہی چیز حق ہوگی جس کو اللہ حق بتائے۔ ایسی حالت میں جو شخص یہ ڈھٹائی دکھائے کہ وہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کی پیروی کرے وہ حساب کے دن کو بھولا ہوا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ سے ڈرنا اور اللہ سے بے خوف ہو کر زندگی گزارنا دونوں یکساں حالتیں ہیں۔ وہ دنیا کو ایک ایسا بے معنی ہنگامہ خیال کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ آگے نکلنے والا نہ ہو۔ مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے اور قرآن اسی لئے اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو اس خطر ناک بھول سے نکالے۔