Al-Risala · May 1980 · page 18

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸

تذکیر القرآن النساء ۴ الله تم کو تمہاری اولاد کی بارے میں حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو مورثوں کے برابر ہے۔ اگر عورتیں دو سے زائد ہیں تو ان کے لئے دو تہائی ہے، اس مال سے جو عورت چھوڑ گیا ہے اور اگر وہ اکیلی ہے تو اس کے لئے آدھا ہے۔ اور میت کے ماں باپ کو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اس مال کا جو وہ چھوڑ گیا ہے بشرطیکہ مورث کے اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے اولاد نہ ہو اور اس کے ماں باپ اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا تہائی ہے اور اگر اس کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ یہی حصے وصیت نکالنے کے بعد یا ادائے قرض کے بعد ہیں جووہ کر جاتا ہے۔ تمہارے باپ ہوں کہ تمہارے بیٹے ہوں، تم نہیں جانتے کہ ان میں تمہارے لئے سب سے زیادہ نافع کون ہے۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ اور تمہارے لئے اس مال کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑیں۔ بشرطیکہ ان کے اولاد نہ ہو ۔ اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے بیویوں کے ترکہ کا چوتھائی ہے وصیت نکالنے کے بعد جس کی وہ وصیت کر جائیں یا ادائے قرض کے بعد۔ اور ان بیویوں کے لئے چوتھائی ہے تمہارے ترکہ کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے، اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لئے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکہ کا بعد وصیت نکالنے کے جس کی تم وصیت کر جاؤ یا ادائے قرض کے بعد۔ اور اگر کوئی مورث مرد یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں اور نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے۔ اور اگر وہ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے بعد وصیت نکالنے کے جس کی وصیت کی گئی ہو یا ادائے قرض کے بعد، بغیر کسی کو نقصان پہنچائے۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے۔ یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں ۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے مقرر کئے ہوئے ضابطوں سے باہر نکل جائے گا اس کو وہ آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے ۱۳-۱۱ آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہو جاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لئے طاقت کا ذریعہ تھا، اس لئے وراثت میں لڑکی کو محروم کر کے سارا حق لڑکے کو دے دیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں اس کار عمل میں تولڑ کا اور لڑکی دونوں برابر کر دئے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم و حکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کے بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کئے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے: یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا، ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ یہ حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائز ہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَن ضارَّفی وصيته القاه الله في وادی جہنم حدیث) اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کئے ہوئے ضابطے پر چلنا ہے نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page