Al-Risala · May 1980 · page 19

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹

اور تمہاری عورتوں میں سے جو کوئی بدکاری کرے تو ان پر اپنوں میں سے چار مرد گواہ کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں کے اندر بند رکھو، یہاں تک کہ ان کو موت اٹھا لے یا اللہ ان کے لئے کوئی راہ نکال دے۔ اور تم میں سے دو مرد جو وہی بدکاری کریں تو ان کو اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر وہ دونوں توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں تو ان کا خیال چھوڑ دو۔ بے شک اللہ تو بہ قبول کرلے والا مہربان ہے۔ تو بہ جس کی قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ ان لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں ۔ پھر جلد ہی تو بہ کر لیتے ہیں ۔ وہی ہیں جن کی تو بہ اللہ قبول کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی تو بہ نہیں ہے جو برابر گاوہ کرتے رہیں، یہاں تک کہ جب موت ان میں سے کسی کے سامنے آجائے تب کہے کہ اب میں تو بہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کی تو بہ ہے جو اس حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہیں، ان کے لئے تو ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گناہ قانون کے مطابق کیا جائے گناہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کئے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرنے تو اس کے بعد تو لازم ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ شفقت اور درگزر کا معاملہ کیا جائے کسی کے ماضی کی بنیاد پر اس کو مطعون کرنا درست نہیں۔ جب اللہ تو بہ کرنے والوں کی تو بہ قبول کرتا ہے اور اپنی اصلاح کر لینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز و ملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز و ملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کر رہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔

تو بہ زبان سے " تو بہ " کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی تو بہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لئے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ تو بہ آدمی کے لئے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کر دیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے تو بہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہوں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہیں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کہیں کہ "میں نے تو بہ کی"، اسی طرح ان لوگوں کی تو بہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو بہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے ۔ تو بہ اس شخص کے لئے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کر بیٹھے، پھر اس کا احتساب نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرا دے وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کر لے۔ ایسا ہی آدمی تو بہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح تو بہ کرے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page