حکومت کا تصور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
اے ایمان والو تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو اور نہ ان کو اس غرض سے رو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں۔ اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسرکرو۔ اگر وہ تم کو نا پسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو، کیا تم اس کو بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لو گے۔ اور تم کس طرح اس کو لو گے جب کہ ایک دوسرے سے خلوت کر چکا ہے اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں، مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک یہ بے حیائی ہے اور نفرت کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ ۱۹-۲۲ مرنے والے کے مال میں یقیناً بعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہئے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لا کر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہئے کہ ظاہری نا پسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کو نبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر و برداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔
جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کر کے علیحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عہد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہوتب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ تحریری عہد کی۔
جو ہو چکا سو ہو چکا، کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔