Al-Risala · May 1980 · page 21

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱

تذکیر القرآن

تمہارے اوپر حرام کی گئیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا ، تمہاری دودھ شریک بہنیں ، تمہاری بیویوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری پر ورش میں ہیں جو تمہاری ان عورتوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے ، لیکن اگر ابھی تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم اکٹھا کر دو بہنوں کو مگر جو پہلے ہو چکا۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں ۔ یہ اللہ کا حکم ہے تمہارے اوپر ۔ ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ سب تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو ، ان کو قید نکاح میں لے کر لو نہ کہ بدکاری کے طور پر ۔ پھر ان عورتوں میں سے جی کو تم کام میں لائے ان کو ان کا طے شدہ مہر دے دو۔ اور مہر کے ٹھہرانے کے بعد جو تم نے آپس میں راضی نامہ کیا ہو تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔ بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور تم میں سے جو شخص مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو اس کو چاہئے کہ وہ تمہاری ان کنیزوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمھارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے ، تم آپس میں ایک ہو۔ پس ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرو اور معروف طریقہ سے ان کے مہر ادا کر دو ، اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ آزاد شہوت رانی کریں اور چوری چھپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں اور اس کے بعد وہ بدکاری کی مرتکب ہوں تو آزاد عورتوں کے لئے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ اور اگر تم ضبط سے کام لو تویہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۲۵ - ۲۳ انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لئے بھی حدود اور ضابطے مقرر کئے ہیں ۔ شریعت الہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے ۔ اس مقصد کے لئے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیا گیا تا کہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق شہوانی جذبات سے بالا رہے۔ انسان کی عزت و بڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیزیں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت و بڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے ۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page