حکومت کا تصور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن النساء ۴ اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے اورتمہیں ان لوگوں کی ہدایت دے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تم پر توجہ کرے، اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے اوپر توجہ کرے اور جو لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے بہت دور نکل جاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کمزور بنایا گیا ہے۔ ہے۔ 26-28 - ۲۸ زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کرتا آرہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے ۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہو جاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے کھولا تھا۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جما لیتی ہیں، وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا۔ تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں، اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کر نا مانوس طریقوں کو اختیار کرنا ان کے لئے سخت دشوار ہوجا تا ہے۔ وہ ایسی اصلاحی تحریک کے دشمن بن جاتے ہیں جو ان کو ان کے باپ دادا کے طریقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں۔ طبقہ کار عمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں ۔ اب رب و تقویٰ کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصل کیفیات سے خالی ہوتے ہیں اور ظاہری آداب و قواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظر آتا ہے ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لئے اُٹھے وہ اس کے شدید مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ اس میں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت نا جائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوں میں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب نا جائز یا کم از کم تقویٰ کے خلاف ہیں، اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعہ گرتی ہوئی نظر آئی ۔ خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہو جاتے ہیں جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی کئے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھینے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا جھٹ کوئی برداشت نہیں کرتا۔