Al-Risala · May 1980 · page 23

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن النساء ۴ اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے۔ اور خون نہ کرو آپس میں۔ بے شک اللہ تمہارے اوپر بڑا مہربان ہے۔ اور جو شخص سرکشی اور ظلم سے ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمھاری چھوٹی برائیوں کو معاف کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ اور تم ایسی چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے۔ مردوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اپنی کمائی کا۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھاتا ہے۔ اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں سے ہر ایک کے لئے وارث ٹھہرا دئے ہیں اور جن سے تم نے عہد باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دے دو، بے شک اللہ کے روبرو ہے ہر چیز۔

ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقہ سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں وہ دنیا میں خواہ کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لئے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لئے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کو تاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔

دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھ گیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ واختیار سے اللہ کے لئے کرتا ہے۔ اس لئے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لئے عمل کرنے میں لگا دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page