Al-Risala · May 1980 · page 44

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴

مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کئے۔ پس جو نیک عورتیں ہیں وہ فرماں برداری کرنے والی، پیٹھ پیچھے نگہبانی کرتی ہیں اللہ کی حفاظت سے۔ اور جن عورتوں سے تم کو سرکشی کا اندیشہ ہو ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو سزا دو۔ پس اگر وہ تمھاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف الزام کی راہ نہ تلاش کرو۔ بے شک اللہ سب سے اوپر ہے، بہت بڑا ہے۔ اور اگر تمھیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو اور ایک منصف عورت کے رشتہ داروں میں سے کھڑا کرو۔ اگر دونوں اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کر دے گا۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے ۳۵-۳۴ جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہو سکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لئے مرد کو متعین کیا گیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ”قوامیت“ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ”اطاعت“ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہو رہی ہوگی۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میں اپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کر لے۔ اسی طرح بہترین مرد وہ ہے جو اپنی برتر حیثیت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا کی عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے نہ کہ آخرت میں تقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کو چاہئے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہئے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزامات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ کسی عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لئے ترک کلام اور ترک تعلق کیا جا سکتا ہے۔ آخری درجہ میں مرد اس کو ہلکی سزا دے سکتا ہے، جیسے مسواک سے مارنا۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حکم بنانے پر راضی ہو جائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طور پر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page