Al-Risala · May 1980 · page 25

حکومت کا تصور

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۵

تذکیر القرآن النساء ۴ اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بناؤ۔ اور اچھا سلوک کرو ماں باپ کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں اورمسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور مملوک کے ساتھ۔ بے شک اللہ پسند نہیں کرتا اترانے والے بڑائی کرنے والے کو جو بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل سکھاتے ہیں اور جو کچھ انھیں اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے منکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو وہ بہت برا ساتھی ہے۔ ان کا کیا نقصان تھا اگر وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ نے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اور اللہ ان سے اچھی طرح باخبر ہے۔ بے شک اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرے گا۔ اگر نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔ ۳۶ - ۴۰ انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دے، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طور پر تواضع کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میں ظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطہ میں آتا ہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ تو اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کئے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت و قابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی انگو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں دل تنگ ہوتا ہے۔ فیاض کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں نہیں۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے دئے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی مدوں میں نہ خرچ کریں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لئے نمائش ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کر رہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہو سکی۔ ان کے لئے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ فراہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظر یاتی معاملہ بناتا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page