حکومت کا تصور
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶
تذکیر القرآن النساء ۴ پھر اس قت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تم کو ان لوگوں کے اوپر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے ۔ وہ لوگ جنھوں لیے انکار کیا اور پیغمبر کی نافرمانی کی اس روز تمنا کریں گے کہ کاش زمین ان پر برابر کر دی جائے ، اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے ۔ اے ایمان والو ! نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو تم کہتے ہو ، اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر راہ چلتے ہوئے ، یہاں تک کہ غسل کرو۔ اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آئے یا تم عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اپنے چہرہ اور ہاتھوں کا مسح کرو ، بے شک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے ۔ ۴۳ - ۴۱ حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد و ظاہری بُرانیاں اور نقص بھی نہیں ہوتیں ۔ اس کے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہو سکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میں ان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنا دیا گیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں ۔ یہ وہاں مہرِم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر ۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں ۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی ۔ خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگا اور خدا انھیں دکھادے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ نا واقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعی حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود وہ محض اس لئے اس کے منکر ہو گئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شریعت میں غیر معمولی حالات میں غیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفریا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لئے غیر معمولی حالتیں ہیں ۔ اس نے ان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے ۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کر سکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔
"نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ تم کیا کہہ رہے ہو" ۔ یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بنانے کے لئے آئی ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتا رہی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے ۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحت ادا کے ساتھ دہرا دیا جائے ۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے ۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے ، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا اظہار کر رہا ہے ، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو ۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کر رہا ہے ، اس کا شعور بھی اسی خدا کی عبادت گزار بن جائے ۔