تذکیر القرآن النساء ۴
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۷
تذکیر القرآن النساء ۴
کیا تم نے ان لوگووں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ ملا تھا۔ وہ گمراہی کو مول لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بھٹک جاؤ۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ کافی ہے حمایت کے لئے، اور اللہ کافی ہے مدد کے لیے یہود میں۔ ہیں ۔ بلکہ ایک گروہ بات کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دیتا ہے اورکہتا ہے کہ ہم نے سنا اور نہ مانا اور کہتے ہیں کہ سنوا ور تمہیں سنوایا نہ جائے۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر کہتے ہیں راعنا، دین میں عیب لگانے کے لئے۔ اور اگر وہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا، اور سنو اور ہم پر نظر کرو تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر اور درست ہوتا۔ مگر اللہ نے ان کے انکار کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے پس وہ ایمان نہ لائیں گے مگر بہت کم ۔ اے وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی اس پر ایمان لاؤ جو ہم نے اتارا ہے، تصدیق کرنے والی اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹا دیں پھر ان کو الٹ دیں پیٹھ کی طرف یا ان پر لعنت کریں جیسے ہم نے لعنت کی سبت والوں پر ۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے ۔ بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جو کچھ ہے، اس کو جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا طوفان بانوہا۔ کیا تم نے دیکھا ان کو جو اپنے آپ کو پاکیزہ کہتے ہیں۔ بلکہ اللہ ہی پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ دیکھو، یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور صریح گناہ ہونے کے لئے یہی کافی ہے ۔ ۵۰۔ ۴۷ اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، تو خدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لئے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔ اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لئے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں۔ وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لئے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع محل سے ہٹا کر دھ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتا ہے مگر وہ حقیقتاً نہیں سنتا۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی نادبھی کا حال ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا دئے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پیچھے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لئے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لئے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لئے آدمی کا اس طرح اندھا ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو ایسی توفیق سے محروم کر دیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھا تو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا ۔ بے بسی جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔