تذکیر القرآن النساء ۴
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸
تذکیر القرآن النساء ۴ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب سے حصہ ملا تھا ، وہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ صحیح راسیتہ پر ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے تم اس کا کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔ کیا خدا کے اقتدار میں کچھ ان کا بھی دخل ہے۔ پھر تو یہ لوگوں کو ایک تل برابر بھی نہ دیں۔ کیا یہ لوگوں پر حسد کر رہے ہیں ، اس بنا پر جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دیا ہے۔ پس ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت دی ہے اور ہم نے ان کو ایک بڑی سلطنت بھی دے دی۔ ان میں سے کسی نے اس کو مانا اور کوئی اس سے رکا رہا اور ایسوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔ بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کا انکار کیا ان کو ہم سخت آگ میں ڈالیں گے۔ جب ان کے جسم کی کھال جل جائے گی تو ہم ان کی کھال کو بدل کر دوسری کر دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو ہم باغوں میں داخل کریں گے جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، وہاں ان کے لئے ستھری بیویاں ہوں گی اور ان کو ہم گھنی چھاؤں میں رکھیں گے۔ آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعہ ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملے کو ”پاک کلمات“ اور ”با برکت نسبتوں“ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اس کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو شیطان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہو جاتے ہیں ، کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کر رہی ہے۔ کافروں کا وجود ان کے لئے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لئے کافروں کے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ ان کے اندر یہ حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔
لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہے۔ لعنتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کر دیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی زندگی ختم ہو جاتی ہے ، اسی طرح خدا کی نصرت سے محروم ہو کر آدمی کی را تمہاری زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے رحمت زدہ آدمی