تذکیر القرآن النساء ۴
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹
رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں اہل اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمھارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ قضیہ لے جائیں شیطان کی طرف، حالاں کہ ان کو حکم ہو چکا ہے کہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی طرف اور رسول کی طرف تو تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے کترایا جاتے ہیں۔ پھر اس وقت کیا ہوگا جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر پہنچے گی، اس وقت یہ تمھارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آئیں گے کہ خدا کی قسم ہم کو تو صرف بھلائی اور ملاپ سے غرض تھی۔ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے ۵۸-۶۳ ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری اس میں ہے جو اللہ بتائے نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ اگر حکومتی نظام کے مواقع ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ باقاعدہ اسلامی حکومت کا قیام عمل میں لائیں۔ اور اگر حکومت کے مواقع نہ ہوں تو اپنے اندر کے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سرمہ بنا لیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم ہے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ ہر آدمی کو اختلافِ رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔
مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لئے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک یہودی سرداروں کی جو پہلے سے چلی آرہی تھی۔ دوسری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی تھی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دیندار بننے کے لئے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسول خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کا فیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے کتنے ہی خوبصورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہئے۔