Al-Risala · May 1980 · page 30

تذکیر القرآن النساء ۴

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰

تذکیر القرآن النسا ۴ اور ہم نے جور سول بھیجا اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اور اگر وہ جب کہ انھوں نے اپنا برا کیا تھا، تمھارے پاس آتے اور اللہ سے معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی چاہتا تو یقیناً وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پاتے۔ پس تیرے رب کی قسم وہ کبھی ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑے میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔ پھر جو فیصلہ تم کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے قبول کر لیں۔ اور اگر ہم ان کو حکم دیتے کہ اپنے آپ کو ہلاک کرویا اپنے گھروں سے نکلو تو ان میں سے تھوڑے ہی اس پر عمل کرتے۔ اور اگر لوگ وہ کرتے جس کی انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے لئے یہ بات بہتراور ایمان پر ثابت رکھنے والی ہوتی۔ اور اس وقت ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا اجر دیتے اور ان کو سیدھا راستہ دکھاتے۔ اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا۔ یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح کیسی اچھی ہے ان کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ کا علم کافی ہے۔ ۶۴ - ۶۷ رسول اس لئے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہو جائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ یہ رسول اس لئے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کار بند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنا زیادہ شدید ہونا چاہئے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول کی اطاعت سے نہ ہٹے ۔ جب دو آدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تنی ابھر آئے۔ اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے کورسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتیٰ کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضامندی کے ساتھ اس کو قبول کرے ۔ وہ اپنے احساس کو آستانہ نہ رکھے کہ اگر وقتی طور پر کبھی اس سے غلطی ہو جائے تو وہ جلدی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید ترمواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان و مال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔

نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طور پر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو غۂ طاعت کا پابند کر لیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراط مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔ وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتا ہے نہ کہ اس کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہو جاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنہوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حد تک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page