Al-Risala · May 1980 · page 31

تذکیر القرآن النساء ۴

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱

اے ایمان والو! اپنی احتیاط کرو، پھر نکلو جدا جدا یا اکٹھے ہو کر، اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو دیر لگا دیتا ہے۔ پھر اگر تم کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں ان کے ساتھ نہ تھا۔ اور اگر تم کو اللہ کا کوئی فضل حاصل ہو تو کہتا ہے، گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی رشتہ محبت جی نہیں۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا۔ پس چاہیے کہ لڑیں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچ دیتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں لڑے، پھر مارا جائے یا غالب ہو تو ہم اس کو بڑا اجر دیں گے۔ اور تم کو کیاہوا کہ تم نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے لئے جو کہتے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال اس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی پیدا کر دے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی مددگار کھڑا کردے۔ جو لوگ ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو منکر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں۔ پس تم شیطان کے ساتھیوں سے لڑو۔ بے شک شیطان کی چال بہت کمزور ہے۔ ۷۴ - ۷۱ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے، اس لئے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہل ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکس رہنا ہے۔ پر امن تدبیروں اور جنگی تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا ہے۔ ان کو متفرق طور پر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں، جیسا کہ غزوہ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لئے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہوں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو، جس سے علحدگی کے لئے خوبصورت عذر تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لئے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد تو عملی روند اسی موجودہ دنیا کی سطح پر ہی رہے۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی دانا کلامی ان کے لئے ناقابل لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقہ وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کر کے اللہ کی راہ میں بڑھے۔ نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت و عزت کا مقام حاصل ہوتا ہو خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندہ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لئے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے بد مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندہ خدا سے، اس بنا پر لڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی انانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لئے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page