Al-Risala · May 1980 · page 42

تذکیر القرآن النساء ۴

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲

کیا تم نے ان لوگوں کا لیےیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے ہم پر لڑائی کیوں فرض کردی۔ کیوں نہ چھوڑے رکھا ہم کو تھوڑی مدت تک۔ تک۔ کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ تھوڑا ہے اور آخرت بہتر ہے اس کے لئے جو پرہیزگاری کرے، اور تمہارے ساتھ ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اور تم جہاں بھی ہو گے موت تم کو پالےگی اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔ اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔ ان لوگوں کو کیا حال ہے کہ لگتا ہے کہ کوئی بات ہی نہیں سمجھتے۔ تم کو جو بھلائی بھی پہنچتی ہے خدا کی طرف سے پہنچتی ہے اور تم کو جو برائی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی سبب سے ہے۔ اور ہم نے تم کو انسانوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ ۷۹۔۸۰ ہجرت سے پہلے مکہ میں اسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے، مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، سب انھوں نے مسلمانوں کے لئے جائز کر لیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لئے اصولاً جائز کر دیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کر سکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلے میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف الفاظ ہی ظلم کر رہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کر دیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لئے ضروری تیاری کر لی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہل ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لئے ضروری ہیں یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا۔ بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلات پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔

قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وەد رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لئے رسول کو غلط ثابت کرتے ۔ خدا کو مان کر زندگی کے نہ ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی نہ دری ہو جانا ہے جو آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page