Al-Risala · May 1980 · page 34

اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۴

مَّسْلِمُہٗ ، من کان فی حاجبہِ اخیہ کان اللہ فی حاجت پوری کرے گا تو اللہ سے کی حاجت پوری کرے گا۔ جو حاجتہ ومن فرج عن مسلم کربۃ فرج اللہ شخص کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے گا تو اللہ قیامت کے دن عنہ بھا کربۃ من کرب یوم القیامۃ ومن ستر اس کی تکلیف دور کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو ڈھانکے گا تو مسلما سترہ اللہ یوم القیامۃ (متفق علیہ) اللہ قیامت کے دن اس کو ڈھانکے گا۔

عن عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ تعالی اوحی ان تواضعوا کوئی شخص کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے، کوئی شخص کسی کے حتی لا یبغی احد علی احد ولا یفخر احد علی احد (سلم) اوپر فخر نہ کرے ۔

عن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی ایک مومن کی مثال دوسرے مومن کے لئے ایسی ہے جیسے اللہ علیہ وسلم: المومن للمومن کالبنیان یشد عمارت۔ عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے بعضہ بعضاً و شبک بین اصابعہ (متفق علیہ) اسی طرح سب مسلمان باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامی سماج کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ان کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ اپناہی ایک حصہ سمجھتا ہے۔ دوسروں کے کسی رویہ سے جب اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ دوسرے کس بات سے خوش ہوں گے۔ اس لئے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کسی ایک کا رویہ اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کس چیز سے تکلیف محسوس کریں گے اور وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ دوسروں کو اس کی ذات سے اس قسم کے سلوک کا تجربہ نہ ہونے پائے۔ حتیٰ کہ ایک مسلم آبادی ایک واحد جسم کی مانند ہو جاتی ہے۔ جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو تانگیں ہے کہ بقیہ جسم اس کے لئے تڑپ نہ اٹھے اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف سارے مسلمانوں کی تکلیف بن جاتی ہے اور لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے بھائی کی تکلیف دور نہ کر دیں۔ مسلمان کا سماج ایک ایسا سماج ہے کہ جب بھی ایک شخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس کے اندر محبت اور رحم دلی اور مہربانی پاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی حاجت برآری کے لئے اس طرح تیار رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کا اپنا مسئلہ ہو۔ کوئی دوسرے مسلمان کو ننگا یا بے گھر دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ننگا اور بے گھر ہو گیا ہو۔ کسی کو برداشت نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے بھائی کو بے سہارا چھوڑ دے۔ ایک کو دوسرے سے ظلم اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انصاف ملتا ہے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہیں کرتا، کوئی کسی کے اوپر حسد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے، ہر ایک دوسرے کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں کہ ان کے لئے نا قابل تصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے خون کو اپنے لئے جائز کر لیں خواہ اس سے کتنی ہی زیادہ تکلیف ان کو پہنچی ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال لے لینے اس اسی طرح ہتھیا نے آگے کو ہاتھ میں لینے سے بچتا ہے کہ اس کا مسلمان کے لئے مزید مسلمان کی آبرو پر حملہ کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page