Al-Risala · May 1980 · page 35

اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۵

ہے وہ دوری اور ٹکراؤ کا نہیں ہوتا بلکہ جوڑ اور پیوستگی کا ہوتا ہے۔ ہر اینٹ اگرچہ ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر الگ ہونے کے باوجود وہ سماجی اعتبار سے پوری عمارت کا ایک اٹوٹ حصہ ہوتی ہے۔ اس سے عمارت کو طاقت ملتی ہے نہ کہ کمزوری۔ وہ اپنے اوپر عمارت کو تھامے ہوئے ہوتی ہے نہ کہ خود عمارت کو اپنے اوپر کھڑا کرنے کی کوشش کرے! ایک مومن جس خدا کا طالب ہوتا ہے دوسرا مومن بھی اسی خدا کا طالب ہوتا ہے۔ ایک مومن کی منزل مقصود جس طرح آخرت ہوتی ہے دوسرے مومن کی منزل مقصود بھی اسی طرح آخرت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کیوں کر ممکن ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ مزید یہ کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا بھلائی اور برائی کی کش مکش کی جگہ ہے۔ یہاں شیطان کے ساتھی اپنے عمل کے لئے آزاد ہیں۔ جو شخص بھی بھلائی کے راستہ پر چلنا چاہے اس کو برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنانا ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب مسلمان مل کر رہیں۔ باہم ملنے سے ان کی طاقت بہت بڑھ جائے گی اور وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ برائی کی طاقتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے رب کی طرف بڑھ سکیں گے اس قسم کا اسلامی سماج کس طرح بنتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ خوف خدا کے ذریعہ۔ دنیا کی تمام بھلائیوں کا راز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ اور دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ یہ ہے کہ آدمی کا سینہ اللہ کے ڈر سے خالی ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی شخص دوسروں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کر سکتا ہے جو دوسروں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ حضرت عمر تابعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب سے میں ملا ان کو میں نے یہ کہتے ہوئے پایا کہ لوگوں میں تمھارا سب سے زیادہ خیر خواہ وہ ہے جو تمھارے معاملہ میں اللہ سے ڈرتا ہو۔ (انصح الناس لك من خاف اللہ فيك، جامع العلوم والحکم (۷) یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی پکڑ کے اندیشہ کے سوا کوئی چیز آدمی کو روک نہیں سکتی۔ جب آدمی پر ایک حیوانی جذبہ کا غلبہ ہوتا ہے، جب کسی معاملہ میں اس کا کوئی مفاد وابستہ ہو جاتا ہے، جب کوئی چیز اس کے لئے عزت و وقار کا مسئلہ بن جاتی ہے تو اس وقت انسان وہ سب کچھ کر ڈالنا چاہتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ ایسے موقع پر صرف ایک ہی چیز ہے جو آدمی کو قابو میں رکھے اور اس کو انصاف کے راستہ سے ہٹنے نہ دے۔ اور وہ یہ احساس کہ ہر آدمی کا معاملہ اللہ کے یہاں پیش ہونا ہے اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا بدلہ ملنا ضروری ہے۔ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے کو بچا بھی لے تو آخرت میں وہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا۔ مسلمانوں کا سماج خیر خواہی اور انصاف کا سماج ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ان میں سے ہر شخص اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے ایک مسلمان کا معاملہ جب دوسرے مسلمان سے پیش آتا ہے تو اس کو وہ محض ایک انسانی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ ایک خدائی معاملہ سمجھتا ہے۔ اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ میں ایک انسان سے نہیں بلکہ خدا سے معاملہ کر رہا ہوں جو تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ ہر آدمی کے پیچھے اس کو خدا کھڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر معاملہ اس کو ایک ایسا معاملہ دکھائی دیتا ہے جو آخرت کی عدالت میں پیش ہوگا اور تمام کھلے اور چھپے کا جاننے والا مالک اس کے بارہ میں بے لاگ فیصلہ فرمائے گا۔ مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ اس کو لازماً مرنا ہے اور مرنے کے بعد اللہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ وہ اللہ سے اس بات کی دعائیں کر رہا ہوتا ہے کہ آخرت کی پیشی کے دن وہ اس کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page