Al-Risala · May 1980 · page 36

اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۶

نرمی کا معاملہ فرمائے۔ اسی کی یہ نفسیات اس کو دوسرے انسانوں کے معاملہ میں نرم کر دیتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زیادتیوں کو معاف کر دیتا ہے تاکہ اس کا خدا قیامت کے دن اس کی زیادتیوں کو معاف کر دے۔ وہ خدا کے بندوں کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرتا ہے تاکہ خدا بھی اس کے ساتھ فیاضی کا معاملہ کرے۔ بندوں کی طرف سے اس کو جتنا ملتا ہے اس سے زیاوہ دہ ان کو لوٹاتا ہے تاکہ خدا اس کے حقیر عمل کے بدلے اپنے بڑے بڑے انعامات اس کے حصہ میں لکھ دے۔

اسلامی سماج میں آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتا ہے اور اختلاف و شکایت کے مواقع پر خود اپنا قصر ور دارمان لیتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا۔ وہ آیا اور آپ سے بہت بھدے انداز میں تقاضا کرنے لگا۔ آپ کے اصحاب جو اس وقت آپ کے ساتھ تھے، اس کی سخت باتوں کو سن کر بگڑ گئے اور اس کو مارنا چاہا۔ آپ نے منع فرمایا۔ آپ نے اس کے قصور کو اپنے آپ پر لیتے ہوئے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ ایک حق دار کو کہنے سننے کا حق ہے (دعوة فان لصاحب الحق مقالاً، متفق علیہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی ذات سے نمونہ قائم کر کے حق دار کو کہنے سننے کا موقع دیا اور اس طرح ہر قسم کے سماجی فساد کی جڑ کاٹ دی۔

اسلامی سماج میں یہ مزاج ہوتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حد درجہ رعایت کی جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی آیا اور مدینہ کی مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کو پکڑنے اور مارنے کے لئے دوڑے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ نے لوگوں کو منع فرمایا اور اس کو پیشاب کرنے سے نہ اٹھایا۔ آپ نے کہا: اس اعرابی کو چھوڑ دو اور اس نے جہاں پیشاب کیا ہے وہاں ایک ڈول پانی کا ڈال دو۔ کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے کے لئے بھیجے گئے ہو، تم مشکل پیدا کرنے کے لئے نہیں بھیجے گئے (بخاری) عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نرم ہے اور سارے معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے (إن الله رفيق يحب الرفق في الامور كله ، متفق علیہ) یہ نرمی اور رعایت اسلامی سماج کی اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسلامی سماج ایک با اصول سماج ہے مگر اس کے ساتھ وہ حد درجہ نرمی اور رعایت کا سماج ہے۔ مومن وہ ہے جو اپنے لئے شدت اور دوسرے کے لئے رعایت کو پسند کرے ۔

اسلامی سماج میں کم بولنے اور زیادہ عمل کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان کا انتقال ہوا۔ وہ ایک جہاد میں لڑ کر مرا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اس کو جنت کی خوش خبری ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: تم کو کیا معلوم شاید وہ شخص بے فائدہ باتیں کرتا رہا ہو اور ایسے خرچ میں بخل کرتا رہا ہو جس میں اس کا نقصان نہ تھا (لعله تكلم بما لا يعنيه او بخل بما لا یغنیه، ترمذی) اسی طرح ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا - اللہ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا وہ تمہارے عمل کو دیکھتا ہے (إن الله لا ينظر إلى صور كم ولكن ينظر إلى اعمالكم) اسلامی سماج بے حد سنجیدہ سماج ہوتا ہے۔ اس لئے وہاں کوئی شخص غیر ضروری کلام نہیں کرتا۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضروری کاموں میں مشغول رکھے۔

اسلامی سماج میں اپنی محنت پر بھروسہ کرنے کا ماحول ہوتا ہے۔ آدمی مانگ کر حاصل کرنے کے بجائے کرکے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آدمی یہ نہیں سوچتا کہ جو کچھ دوسروں کے پاس ہے وہ میں چھین کر یا مطالبہ کر کے حاصل کرلوں بلکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ نے مجھ کو جو کچھ دیا ہے میں اپنی محنت سے اس میں اضافہ کروں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1980 All issues

Printed page