اسلامی سماج کیسا ہوتا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۰، صفحہ ۳۷
کو ہاتھ، پاؤں اور دماغ کی جو صلاحیت دی ہے، اس کو بروئے کار لا کر اپنی زندگی اپنے آپ بناؤں۔ ابوعبدالرحمن عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اور ہم تقريباً نو آدمی تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرنے۔ چوں کہ ہم جلد ہی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا اے خدا کے رسول ہم بیعت کر چکے ہیں۔ آپ نے دوبارہ فرمایا : کیا تم رسول خدا سے بیعت نہیں کرتے، ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا: اے خدا کے رسول ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں۔ پھر ہم کس چیز پر بیعت کریں۔ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو گے ۔ اور پانچ وقت کی نماز اور اطاعت۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : ولا تسألوا الناس شیئا (اور تم لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگو)، گے) راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض کو میں نے دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہے اور اس کا کوڑا گر گیا ہے تو وہ کسی سے مانگتا نہیں، بلکہ اتر کر خود کوڑے کو اٹھاتا ہے (مسلم) اس کا مطلب ہے کہ اسلامی سماج میں مانگنے اور مطالبہ کرنے کا ماحول نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتا ہے اور اپنی ذاتی محنت پر بھروسہ کرتا ہے۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل اعمال ہیں۔ ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا : اے خدا کے رسول کیا اگر میں اللہ کے راستہ میں مارا جاؤں تو میری خطائیں بخش دی جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ہاں، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ، اس حال میں کہ تم صبر کرتے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو۔ آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا: تم نے کس طرح کہا تھا۔ اس نے اپنے سوال کو دہرایا۔ آپ نے دوبارہ اپنے جواب کو دہراتے ہوئے کہا : ہاں، اگر تم اللہ کے راستہ میں مارے جاؤ، اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے اور خالص اللہ کے لئے لڑنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو تو تم بخش دئے جاؤ گے۔ لیکن اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو اس کی بخشش نہ ہوگی۔ کیوں کہ ابھی جبریل نے مجھ کو بتایا ہے (الا الدین فان جبریل قال لی ذالک ۔ مسلم) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں ہر آدمی بے خدمتلا ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ کسی کا قرض یا حقوق باقی نہ رہ جائیں۔ ایک مسلمان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ دین کی راہ میں خواہ میں کتنی ہی بڑی قربانی کردوں مگر اللہ کی نظر میں میری قیمت اسی وقت ہوگی جب کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ میں نے کسی کا حق نہ دبایا ہو، میرے ذمہ لوگوں کے مطالبات نہ ہوں۔ اگر میرے ذمہ کسی انسان کا حق ہے اور میں اس کو ادا نہیں کرتا تو دین کی راہ میں میرا جان دے دینا بھی مجھ کو آخرت میں نجات نہ دے سکے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو صدقہ کرو۔ ایک شخص نے پوچھا: اے خدا کے رسول اگر آدمی کے پاس مال نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کہ پھر وہ لوگوں سے بھلی بات کہے۔ کیوں کہ وہ بھی صدقہ ہے۔ آدمی نے دوبارہ پوچھا: اے خدا کے رسول اگر اس کے پاس بھلی بات بھی نہ ہو۔ آپ نے فرمایا : پھر وہ دوسروں کو اپنے شر سے بچائے (یدع الناس من شَرِّهِ) اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سماج میں ہر ہفتہ آدمی دوسروں کے لئے اترا ہی زیادہ نفع بخش ہوتا ہے، اللہ کا نفع رسان اس کو کچھ دیا جائے یا اس کے ذمہ دوسروں کا