Al-Risala · January 1980 · page 26

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۶

قرض حسن دے کہ 1للہ اس کو بڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کر دے۔ اور اللہ ہی تنگی بھی پیدا کرتا ہے اور کشادگی بھی۔ اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۵۔ ص ۲۴۳ ۲ مکہ سے تنگ آکر مسلمان مدینہ چلے آئے ۔ مدینہ میں اپنے دین کے مطابق رہنے کے لئے نسبتاً آزادانہ ماحول تھا۔ مگر مخالفین اسلام نے اب بھی ان کو نہ چھوڑا۔ انھوں نے فوجی حملے شروع کر دیے تاکہ مدینہ سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں۔ اس وقت حکم ہوا کہ ان سے مقابلہ کردو۔ مخالفین کی نسبت سے اس وقت مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی۔ اس لئے کچھ لوگوں کے اندر بے ہمتی پیدا ہوئی۔ یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک واقعہ یاد دلا کر بتایا گیا کہ زندگی کے معرکہ میں شکست سے ڈرنے ہی کا نام شکست ہے۔

بنی اسرائیل کی ایک پڑوسی قوم فلستی نے ان پر حملہ کر دیا۔ بنی اسرائیل شکست کھا گئے۔ فلستیوں نے دو حملوں میں ان کے ۳۴ ہزار آدمی مار ڈالے۔ بنی اسرائیل اتنا ڈرے کہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ بائبل کے الفاظ میں "حشمت بنی اسرائیل سے جاتی رہی"۔ بنی اسرائیل کا سارا گھرانا خوف میں مبتلا ہو کر نوحہ اور فریاد کرنے لگا۔ اسی حال میں ان کو ۲۰ سال گزر گئے۔ پھر انھوں نے سوچا کہ فلستیوں کے سامنے ان کو شکست کیوں ہوئی۔ ان کے نبی سموئیل نے کہا کہ شکست کی وجہ خدا میں تمہارے یقین کا کمزور ہو جانا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے سارے گھرانے سے کہا کہ اگر تم اپنے سارے دل سے خداوند کی طرف رجوع لاتے ہو تو اجنبی دیوتاؤں کو اپنے بیچ سے دور کرو اور خداوند کے لئے اپنے دلوں کو مستعد کر کے فقط اسی کی عبادت کرو۔ خدا فلستیوں کے ہاتھ سے تم کو رہائی دے گا۔ تب اسرائیل نے اجنبی دیوتاؤں کو اپنے سے دور کیا اور فقط خداوند کی عبادت کرنے لگے۔ اب جب دوبارہ فلستیوں اور اسرائیلیوں میں جنگ ہوئی تو بائبل کے الفاظ میں "خداوند فلستیوں کے اوپر اس دن بڑی کڑک کے ساتھ گرجیا اور ان کو گھبرا دیا۔ اور انھوں نے اسرائیلیوں کے آگے شکست کھائی ( ا سموئیل ۷) اللہ پر اعتماد کے راستہ کو چھوڑ کر ان پر فل موت واقع ہوئی تھی، اللہ پر اعتماد کے راستہ کو اختیار کرنے کے بعد ان کو نئی زندگی حاصل ہو گئی۔

قرض حسن کے معنی ہیں اچھا قرض۔ یہاں اس سے مراد وہ انفاق ہے جو خدا کے دین کی راہ میں کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page