بچاؤ کا انتظام
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۶
بچاؤ کا انتظام
الور میں ایک مورسہ ہے جو شہر کے کنارے واقع ہے۔ مدرسہ کے ایک طرف شہر کی عمارتیں ہیں اور دوسری طرف کھیت شروع ہو جاتے ہیں۔ ایک بار مجھ کو اس مدرسہ میں چند دن گزارنے کا اتفاق ہوا۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں مدرسہ سے نکلا اور کھیتوں کی طرف ٹہلنے چلا گیا۔ کچھ دور آگے بڑھا تو ایک جگہ بہت سے کتے نظر پڑے ۔ وہ مجھ کو دیکھ کر زور زور سے بھونکنے لگے اور میری طرف لپکے۔ مجھ کو پتھر پھینک کر نہیں بھاگنا پڑا، مغرب کے قریب میں ٹہل کر واپس ہوا تو میں نے مدرسہ کے ناظم مولانا مفتی جمال الدین قاسمی سے اس کا ذکر کیا۔ وہ مسکرائے انھوں نے کہا کہ کل ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ پھر آپ دیکھئے گا کوئی کتا نہیں بھونکے گا۔ اگلے دن عصر کی نماز کے بعد جب میں ٹہلنے کے لئے نکلا تو مفتی صاحب بھی میرے ساتھ ہو گئے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ میں ایک لمبی لاٹھی لے لی جو دور سے دکھائی دیتی تھی۔ ہم لوگ چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں پچھلے روز مجھے کتوں کا غول ملا تھا، میں نے دیکھا تو اب بھی کتے وہاں موجود تھے۔ مگر آج کوئی کتا ہماری طرف نہیں لپکا اور نہ کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ ہم سکون کے ساتھ اس مقام سے گزر گئے اور کتے ہماری طرف متوجہ ہونے کے بجائے اپنے شغلوں میں لگے رہے۔ واپس ہوتے ہوئے ہم دوبارہ اس مقام سے گزرے ۔ اب بھی کتے وہاں موجود تھے۔ مگر انھوں نے ہماری طرف کوئی توجہ نہ کی۔ ہم کسی مزاحمت کے بغیر اپنی منزل پر واپس آگئے۔
یہ لاٹھی کی برکت تھی، مفتی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا " کل آپ لاٹھی کے بغیر تھے تو کتوں کو ہمت ہوئی یہ بھونکتے ہوئے آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آج ہمارے ساتھ لمبی لاٹھی تھی تو کتے اس کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ ہم بے زور نہیں ہیں بلکہ ان کا جواب دینے کے لئے ہمارے پاس مضبوط ہتھیار موجود ہے۔ اس چیز نے کتوں کو ہمارے اوپر اقدام کرنے سے بے ہمت کر دیا۔ کتا ہمیشہ اس وقت آپ کی طرف دوڑے گا جب وہ آپ کو کمزور محسوس کرے۔ اگر وہ دیکھے کہ آپ کے پاس طاقت ہے تو وہ آپ کی طرف رخ نہیں کرے گا۔ "
انسانوں میں بھی کچھ لوگ اسی قسم کا مزاج والے ہوتے ہیں۔ وہ اس شخص سے ٹھیک رہتے ہیں جو اپنے ہاتھ میں ایک "لاٹھی" لئے ہوئے ہو۔ ایسے شخص سے سامنا ہو تو وہ کترا کر الگ ہو جاتے ہیں۔ البتہ جب وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ وہ لاٹھی کے بغیر ہے تو اس کے لئے وہ شیر ہو جاتے ہیں۔ وہ طاقت در کے لئے بز دل ہوتے ہیں اور کمزور کے لئے بہادر۔ یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی سماج کے ایسے افراد کے لئے "لاٹھی" کا انتظام بھی رکھے۔ اصولی اور عمومی طور پر وہ پرامن ہو۔ وہ لوگوں کے ساتھ تواضع اور نرمی کا رویہ اختیار کرے۔ مگر اسی کے ساتھ کم از کم دکھانے کی حد تک وہ اپنے آس پاس "لاٹھی" بھی کھڑی رکھے تاکہ اس قسم کے لوگوں کو اس کے اوپر حملہ کی جرات نہ ہو سکے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے قدرت ایک شاخ پر نرم و نازک پھول کھلاتی ہے تو اسی کے ساتھ وہ شاخ کے چاروں طرف کانٹے بھی اگادیتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues