Al-Risala · January 1980 · page 67

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۶۷

اپنے بچوں سے جدا کیا گیا ہے۔ پھر جب ان کو لڑائی کا حکم ہوا تو تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور ان کے نبی نے ان سے کہا : اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کو ہمارے اوپر بادشاہی کیسے مل سکتی ہے حالاں کہ اس کے مقابلہ میں ہم بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں۔ اور اس کو زیادہ دولت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو چنا ہے اور علم اور جسم میں اس کو زیادتی دی ہے۔ اور اللہ اپنی سلطنت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، جاننے والا ہے۔ اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے تسکین ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ اس صندوق کو فرشتے لے آئیں گے، اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو ۴۸ - ۲ حضرت موسیٰؑ کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے ۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (۱۰۳۰ ء ۔ ۔ (۱۱ ق م ) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں، اس لیے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے، اور جو فیصلہ کرے۔ حقائق کی بنیاد پر کرے نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لا کر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی ۔ بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں ۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے لیے فتح و کامیابی کا نشان سمجھتے تھے فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے ۔ اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کر دیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page