Al-Risala · June 1980 · page 14

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴

ابو بکر رض نے پوچھا: اے خدا کے رسول آپ کیوں اٹھ گئے ۔ آپ نے کہا: ابو بکر جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم خود بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا (سنن ابی داؤد، کتاب الادب)، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا سے بہتر انتقام لے سکے۔ حضرت علی رض بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ کچھ دن گزر گئے تو وہ یہودی تقاضے کے لئے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ " اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے "۔ یہودی نے کہا: " جب تک تم میرا قرض ادا نہ کرو گے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا"، چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کر رات تک وہ آپ کو گھیرے میں لئے ہوئے بیٹھا رہا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ آپ اس کے خلاف کارروائی کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگا نا چاہا ۔ مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ کسی نے کہا: " اے خدا کے رسول، ایک یہودی آپ کو قید کئے ہوئے ہے " آپ نے کہا کہ ہاں، مگر مجھ کو ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی حال میں صبح ہو گئی ۔ جب اگلا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں۔ وہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا کہ آپ قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک مالدار آدمی تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لئے آپ کا گھراؤ کر رکھا تھا۔ مگر آپ کے اعلیٰ کردار نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے اپنی ساری دولت آپ کی خدمت میں پیش کر دی اور کہا کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں خرچ کریں (بیہقی) عبداللہ بن ابی الحسماء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہرے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کر دوں گا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں بعض کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا۔ دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں ۔ آپ نے مجھ کو دیکھنے کے بعد صرف اتنا کہا: تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں (ابو داؤد) اس طرح کا عمل اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ انتہائی کٹّر آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت عائشہ رض بتاتی ہیں کہ یہودی عالموں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ جب وہ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا: السام علیکم ( تباہی ہو تم پر) حضرت عائشہ نے سنا تو ان سے برداشت نہ ہو سکا، انھوں نے کہا" بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو" آپ نے حضرت عائشہ کو اس قسم کے جواب سے منع فرمایا اور کہا: " خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخالف کا دل جیتنے کے لئے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بد زبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے ۔ ہتھیار کے حملہ کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملہ کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی ہار ماننی پڑتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page