پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۵
برار بن عازیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کے ساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے تو مسلمان اس کو واپس کر دیں گے۔ مگر جو مسلمان قریش کے پاس پہنچ جائے اس کو قریش واپس یں کریں گے۔ یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ ایک مسلم نوجوان ابو جندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ پہنچے۔ ان کو ان کے گھر والوں نے اسلام کے جرم میں قید کر رکھا تھا۔ وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اس حال میں حدیبیہ پہنچے کہ ان کا جسم بیڑیوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھ کو دشمنوں کے چنگل سے بچاؤ۔ یہ بے حد نازک وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں۔ ابو جندل کے جذباتی واقعہ کو دیکھنے کے بعد لوگوں کا رجحان ہو گیا کہ معاہدہ کو توڑ کر ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے دوسری طرف مکہ والوں نے کہا: "محمد ! ہمارے اور تمہارے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے، یہ اس کی تکمیل کا پہلا موقع ہے۔ " بالآخر اللہ کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ طے ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھیوں کے لئے یہ بات بے حد تکلیف کی تھی ۔ مگر آپ نے ابو جندل کو دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا (صحیحین) بظاہر اس واقعہ کے معنی یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے۔ مگر اس واقعہ میں اصول پسندی کا جو شان دار عملی مظاہرہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ظالم اندر سے بالکل ڈھ گئے۔ اب ان کا ابو جندل کو لے جانا اور اپنے یہاں ان کو قید میں رکھنا محض ایک عام واقعہ نہ رہا بلکہ ان کی طرف سے اخلاقی گراوٹ اور اسلام کے لئے اخلاقی بلندی کی ایک مثال بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگ اسلام کی اخلاقی برتری سے مرغوب ہو گئے ۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ ابو جندل کا وجود مکہ میں اسلام کی زندہ تبلیغ بن گیا ۔ حتی کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابو جندل ان کو اپنی قومی زندگی کے لئے خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انھوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے۔
حضرت ابو ہریرہ رض مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کی طرف چند سوار بھیجے جو آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستےمیں پاگئے اور اس کو گرفتار کر لائے۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال پوچھا۔ ثمامہ نے جواب دیا: "اگر تم نے مجھے کو قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی ۔ اور اگر تم مجھ کو چھوڑ دو گے تو میں عر جبہ تمھارا احسان مانوں گا اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال چاہو میں دینے کے لئے تیار ہوں " رسول اللہ ص نے کی رہائی کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ اس وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا ۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کے ہاتھ آ جانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا اور درد یہ کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی سلوک سے اس کی ردت کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد میں آیا۔ لوگ حیران تھے کہ وہ دوبارہ کس لئے یہاں آیا ہے۔ مگر جب اس نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو نہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے اس کو چھوڑ کر در اصل ہمیشہ کے لئے اس کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ گیا۔ جب وہ حرم میں پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کا حال معلوم ہوا تو انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues