Al-Risala · June 1980 · page 16

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۶

نے کہا: تم بے دین ہوگئے “۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ میں بے دین یں ہوا بلکہ میں نے خدا کے رسول کے دین کو اختیار کر لیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ثمامہ اسلام کی قوت کا ذریعہ بن گیا۔ اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ ثمامہ نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو، محمدؐ کی اجازت کے بغیر اب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا (صحیح مسلم)۔ کردار بظاہر ایک بے قیمت چیز ہے مگر اس کو دے کر آدمی ہر چیز خرید لیتا ہے۔

اخلاق کی بلندی یہ ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہے اس پر وہ خود عمل کرتا ہو۔ کمزوروں کے ساتھ بھی وہ رعایت و شرافت کا ہی طریقہ اختیار کرے جو کوئی شخص طاقت ور کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنے لئے اس کے پاس جو معیار ہو وہی معیار دوسروں کے لئے بھی ہو۔ مشکل حالات میں بھی وہ اپنے اصولوں سے نہ ہٹے ۔ حتیٰ کہ دوسروں کی طرف سے پست کردار کا مظاہرہ ہو تب بھی وہ اعلیٰ کردار پر قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے اخلاق کے کمال درجہ پر تھے۔ آپ نے کبھی اعلیٰ اخلاق کو نہیں چھوڑا۔ کوئی مصلحت یا کوئی اختلاف آپ کو اخلاق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ آپ کے انتہائی قریبی ساتھیوں نے اس معاملہ میں جو گواہی دی ہے اس سے بڑی اور کوئی گواہی نہیں ہو سکتی ۔

سعید بن ہشام تابعی نے آپ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہؐ کا اخلاق کیسا تھا۔ انھوں نے جواب دیا : آپ کا اخلاق تو قرآن تھا۔ گویا قرآن کی صورت میں مطلوب زندگی کا جو نقشہ آپ نے دوسروں کے سامنے پیش کیا خود آپ اسی نقشہ میں ڈھل گئے۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہؐ کی خدمت کی مگر کبھی آپ نے اف تک نہ کیا اور نہ کبھی میرے کسی کام کی بابت آپ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور جو کام میں نے نہیں کیا اس کی بابت بھی آپ نے کبھی یہ نہ کہا کہ تم نے اس کو کیوں نہیں کیا۔ وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے (صحیحین)۔ امام احمد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، نہ کسی عورت کو مارا ! اور نہ کسی دوسرے کو اپنے ہاتھ سے مارا۔ البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔ جب بھی آپ کو دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو لینے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے آسان کو اختیار فرمایا، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ جو چیز گناہ ہوتی اس سے آپ تمام لوگوں سے زیادہ دور رہنے والے تھے ۔ آپ کو خواہ کوئی بھی تکلیف پہنچائی گئی ہو کبھی آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہیں لیا ، الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کردار تھا جس نے آپ کو دشمنوں کی نظر میں بھی قابلِ عزت بنا دیا۔ جن لوگوں نے آپ کا ساتھ نہ دیا وہ ہر طرح کی مصیبت اور نقصان کے باوجود آپ کے ساتھ جڑے رہے۔ اپنی مظلومی کے دور میں بھی آپ لوگوں کی نظر میں اتنے ہی محبوب تھے جتنا فتح وغلبہ کے دور میں ۔ آپ کو دور سے دیکھنے والوں نے آپ کو جیسا پایا ویساہی ان لوگوں نے بھی پایا جو آپ کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ آپ کا کردار ایسا نمونہ بن گیا جیسا نمونہ تاریخ میں دوسرا نہیں پایا جاتا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page