پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۴
المنافقون ۶۳ تذکیر القرآن منافقین کہت7-8 ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں ۔ حالاں کہ اللہ کے ہیں زمین و آسمان کے خزانے مگر منافق اس کو نہیں سمجھتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو زور والا ہے وہ کمز ور لوگوں کو وہاں سے نکال دے گا۔ حالاں کہ زور صرف اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا اور ایمان والوں کا، مگر منافق اس کو نہیں جانتے ۔ ے ۔ ۸ کسی کے لئے رزق کا ایک دروازہ کھلے اور ایک آدمی اس کو بند کرنے کا منصوبہ بنائے تو یہ خدا کے تقسیم رزق کے نظام میں مداخلت کرنا ہے۔ جو شخص ایسا منصوبہ بنائے وہ بدترین جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو کوئی ٹھکانا ملا ہوا ہے۔ اب کوئی شخص اس کو اس ٹھکانے سے اجاڑنے کی سازش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ قدرت کے نظام کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔
خدا ہی دینے والا ہے اور خدا ہی چھیننے والا۔ دنیا میں کسی کو جو کچھ ملا ہے وہ خدا کے دئے سے ملا ہے اور وہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ کسی سے کوئی چیز چھین لے۔ ایسی دنیا میں کسی شخص کا یہ منصوبہ بنانا کہ وہ کسی سے چھینے اور اس کو بر باد کرے، خدا کو چیلنج کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اپنے کو بندہ کے مقام سے اٹھا کر خدا کے مقام پر بٹھانا ہے، ظاہر ہے کہ کوئی بندہ کبھی خدا نہیں بن سکتا۔ اس لئے کسی بندہ کا ایسا منصوبہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
جب کوئی شخص کسی انسان کے خلاف سازش کرتا ہے تو وہ گویا خدا کے خلاف سازش کرتا ہے، خدا نے جس کو اپنی زمین پر آباد کیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ اس کی زمین سے اجاڑ دے۔ خدا نے جس کو کھانا اور پانی دیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ بھو کا اور پیاسا بنا دے، خدا نے جس کو گھر دیا اس کو وہ چاہتا ہے کہ بے گھر کر دے ، خدا نے جس کو عزت دی اس کو وہ چاہتا ہے کہ بے عزت کر کے چھوڑ دے۔ ایسا آدمی خدا کے دئے کو چھین لینا چاہتا ہے ، وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کر دینا چاہتا ہے۔ ایسا شخص خدا کی اس کائنات میں مجرم ہے۔ وہ اس قابل ہے کہ خود اس کو اجاڑ دیا جائے ، کجا کہ وہ کسی کو اجاڑنے میں کامیاب ہو۔ اس زمین و آسمان کے اندر سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کوئی شخص خدا کی جگہ پر بیٹھنا چاہے۔ وہ خدا کی تقسیم رزق میں خلل ڈالنے کا منصوبہ بنائے۔ ایسا شخص اگر کامیاب ہوتا ہوا دکھائی دے تو وہ خدا کی اس ڈھیل کی بنا پر ہوگا کہ اس کا جرم پوری طرح کھل جائے ۔ تاکہ خدا جب اس کو پکڑے تو وہ ایک ثابت شدہ مجرم ہو کر پکڑنا ہو۔
اللہ کی تقسیم رزق میں مداخلت کا یہ جرم اس وقت اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب کہ وہ اگرحق کے داعیوں کے خلاف کیا گیا ہو۔ اللہ کے کچھ بندے حق کی پیغام رسانی کا کام کر رہے ہوں تو وہ براہ راست اللہ کی توفیق سے کر رہے ہوتے ہیں، ایسی حالت میں کسی کا یہ منصوبہ بنانا کہ ان کا رزق بند کر دو یا ان کا آشیانہ اجاڑ دو تاکہ یہ کام ختم ہو جائے ۔ بہت بڑی بھول ہے اور بہت بڑا جرم بھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues