Al-Risala · June 1980 · page 18

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۸

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جو الٹا پھر اتو ہم نے ان پر تم کو نگراں بنا کر نہیں بھیجا ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو قبول ہے۔ پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ اس کے خلاف مشورہ کرتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ ان کی سرگوشیوں کو لکھ رہا ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اور اللہ بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔ اور جب ان کو کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں، اور اگر نہ وہ اس کو رسول تک یا اپنے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو ان میں سے جو لوگ تحقیق کرنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت جان لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے لوگوں کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ۔ ۸۰ - ۸۳ ۔

خدا کے داعی کو ماننا ” اپنے جیسے انسان کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مان لیتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر راضی نہیں ہوتا ۔ مگر آدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس کی جانب اپنے کو کھڑا کرے ۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا ۔ سامنے وہ رکھی طور پر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے ۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل مبہ ۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے ۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لئے یہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے ۔

قرآن کے کلام الہی بولنے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو ۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو ۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجریبی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو ۔ حقائق واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے ۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ”تدبر کرے ۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لئے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کر دے ۔

اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلہ میں اپنی نااہلی کو جان لیں ۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کر کے اس کی رہنمائی پر راضی ہو جائیں ۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے ۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے ۔ اجتماعی معاملات میں ہونے سے زیادہ حصہ منافقتری ہوتا ہے۔ شیطان کی دیدہ دلیری کا آدمی بات سننے اور دوسروں کے سامنے دوسرے زنگ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page