پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۱۹
پس لڑو اللہ کی راہ میں۔ تم پر اپنی جان سے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں اور مسلمانوں کو ابھار و۔ امید ہے کہ اللہ منکروں کا زور توڑ دے اور اللہ بڑا زور والا اور بہت سخت سزا دینے والا ہے۔ جو شخص کسی اچھی بات کے حق میں کہے گا اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے، اور جو اس کی مخالفت میں کہے گا اس کے لئے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اور جب کوئی تم کو دعا دے تو تم بھی دعا دو اس سے بہتر یا الٹ کر وہی کہہ دو، بے شک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ اللہ ہی معبود رہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ ۸۴ – ۸۶ دینداری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طور پر جہاں ہے وہیں رہے۔ وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے ۔ البتہ کچھ اوپر کی مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دیندار بن گیا ہوں۔ ایسے دین کے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش کئے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں ، جس میں آدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑ نا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دینداری کا سکہ قائم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے ۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے، ایک بات کا حق ثابت ہو جانا ہی اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے ۔ یہ صورتِ حال کبھی اتنی سنگین ہو جاتی ہے کہ حق کی تائید و حمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔ اس کے برعکس حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے ۔ تاہم جہاں تک سچے اہلِ ایمان کا تعلق ہے ان کو بہ حال میں یہ حکم ہے کہ خامہ عارضی شرقی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں ۔ مسلمان کا رویہ زود ہر لوپا کے ردِ عمل میں نہیں جینا چاہئے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے جینا چاہئے ۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لئے کیا فیصلہ کرے۔
نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدرِ صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکروں کا زور توڑے۔ مگر خدا کی سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سرو سامانی کے با وجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لئے نکل پڑے ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues