پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۰
پھر تم کو کیا ہوا ہے کہ تم منافقوں کے معاملہ میں دو گروہ ہورہے ہو۔ حالانکہ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب سے ان کو الٹا پھیر دیا ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ ان کو راہ پر لاؤ جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تم ہر گز اس کے لئے کوئی راہ نہیں پا سکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح انھوں نے انکار کیا ہے تم بھی انکار کرو تا کہ تم سب برابر ہو جاؤ۔ پس تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ پھر اگر وہ اس کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو اور جہاں کہیں ان کو پاؤ انھیں قتل کرو اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مددگار نہ بناؤ۔ مگر وہ لوگ جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جن کے ساتھ تمہارا معاہوہ ہے۔ یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ ان کے سینے تنگ ہورہے ہیں تمہاری لڑائی سے اور اپنی قوم کی لڑائی سے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر زو ر دے دیتا تو وہ ضرور تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم کو چھوڑے رہیں اور تم سے جنگ نہ کریں اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ رکھیں تو اللہ تم کو بھی ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ جب کبھی دہ فتنہ کا موقع پائیں دہ اس میں کو دپڑ تے ہیں۔ ایسے لوگ اگر تم سے یکسو نہ رہیں اور تمہارے ساتھ صلح کا رویہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو تم ان کو پکڑو اور ان کو قتل کرو جہاں کہیں پاؤ۔ یہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلی حجت دی ہے ۸۸ - ۹۱ آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان "ہجرت" ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کر کے حق کی طرف بڑھے تو اس کے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ کو اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی منافقین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جوظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت یہ ہے کہ اہل ایمان ہر ایک سے اُس کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ نہ کمزور دُروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلاضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues