پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن النساء ۴ اور مسلمان کا کام نہیں کہ وہ مسلمان کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی ایسا ہو جائے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہادے الّا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے تھا جو تمہاری دشمن ہے اور وہ خود مسلمان تھا تو وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے ۔ اور اگر وہ ایسی قوم سے تھا کہ تمہارے اور اس کے درمیان عہد ہے تو وہ اس کے وارثوں کو خوں بہادے اور ایک مسلمان کو آزاد کرے ۔ پھر جس کو میسر نہ ہو تو وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ توبہ ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ٩٣-٩٢ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کر دے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد جرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم الگ ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مار ڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑ گڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے سے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔ جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہو گئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لئے کیا کرنا چاہئے۔ یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیا ہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔
ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے حرمت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھیننے ۔ اس کو بے گھر نہ کرے ۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیز کو اس سے چھینے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کر بیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہئے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues