جواس کی انا کو توڑ دے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۸
کر چکے تو وہ لوگ بولے کہ آج ہم کو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انھوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انھوں نے کہا: اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو جما دے اور ان کا فروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔ پھر انھوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔ اور اللہ نے داؤد کو بادشاہت اور دانائی عطا کی اور جن چیزوں کا چاہا علم بخشا۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین فساد سے بھر جائے۔ مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے ۲۵۱ ۔ ۲۶۹ مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ افراد کے اندر مشکلات پر جمنے اور سردار کی اطاعت کرنے کا مادہ ہو۔ طالوت کا اپنے ساتھیوں کو پانی پینے سے منع کرنا اسی استعداد کی جانچ کی ایک سادہ سی تدبیر تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق ان میں سے صرف ۷۰۰ آدمی ایسے نکلے جنھوں نے راستہ میں آنے والے دریا کا پانی نہیں پیا۔ جن لوگوں نے پانی پیا انھوں نے گویا اپنی اخلاقی کمزوریوں کو اور پختہ کر لیا۔ اس لئے دشمن کا ظاہراً ہر طاقت در ہوتا تب ان کو اور زیادہ محسوس ہونے لگا۔ دوسری طرف جن لوگوں نے پانی نہیں پیا تھا ان کے اس فعل سے ان کا صبر اور اطاعت کا مزاج اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔ ان کو وہ حقیقت اور زیادہ واضح صورت میں دکھائی دینے لگی جس کو بائبل کے بیان کے مطابق طالوت کے ایک ساتھی نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا : اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خدا وند تلوار اور بھالے کے ذریعہ سے نہیں بچاتا۔ اس لئے کہ جنگ تو خدا وند کی ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کر دے گا (1۔ ۔ سموئیل ۱۷ : ۳۸) اقتدار جس کے پاس ہو وہ کچھ دنوں بعد گھمنڈ میں پڑ کر ظلم کرنے لگتا ہے۔ اس لئے اقتدار اگر کسی کے پاس مستقل طور پر جمع ہو جائے تو اس کے ظلم و فساد سے زمین بھر جائے۔ اس کی تلافی کا انتظام اللہ نے اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحبان اقتدار کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ بے اقتدار لوگوں میں سے ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعہ سے صاحب اقتدار کو ہٹا کر اس کے منصب پر دوسرے کو بٹھا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی بر سر اقتدار جماعت کا ظلم حد سے آگے بڑھ جائے تو خدا وند تضور یا گردہ کو کھڑا کر کے اس کا وقت ہوتا ہے۔ اگر وہ صبر اور
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues