پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
تذکیر القرآن النساء ۴ اے ایمان والو! جب تم سفر کرو اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص تم کو سلام کرے اس کو یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں تم دنیوی زندگی کو سامان چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہت سامان غنیمت ہے۔ تم بھی پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا تو تحقیق کر لیا کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ برابر نہیں ہو سکتے۔ بیٹھ رہنے والے مسلمان جن کو کوئی عذر نہیں اور وہ مسلمان جو اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہیں، اپنے مال اور اپنی جان سے۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کی اللہ نے بیٹھ رہنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے اور ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کا بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم میں برتری دی ہے۔ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ۹۴ - ۹۳ عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر سے مسلمان تھے مگر ہجرت کر کے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔ اس نے "السلام علیکم" کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کر دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں حتیٰ کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا مارا جانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہو جانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (زوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل امرئ مسلم، حدیث) جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابل تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کا باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر کے خاموش ہو جائے گا۔
عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں اور حرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان و مال کو لے کر حاضر ہو جائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لئے پیش کر دیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیں گے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنیادی طور پر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لئے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کئے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لئے خدا بھی پروا کئے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues