Al-Risala · June 1980 · page 23

پیغمبر اسلام کا کردار

الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳

تذکیر القرآن النسا ء ۴ جو لوگ اپنا برا کر وہے ہیں جب ان کی جان فرشتے نکالیں گے وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم زمین میں بے بس تھے۔ فرشتے کہیں گے کیا خدا کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم وطن چھوڑ کر وہاں چلے جاتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ مگر وہ بے بس مرد اور عورتیں اور بچے جوکوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ کوئی راہ پا رہے ہیں ، یہ لوگ تو توقع ہے کہ اللہ انہیں معاف کر دے گا اور اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔ اور جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے گا وہ زمین میں بڑے ٹھکانے اور بڑی وسعت پائے گا اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے نکلے ، پھر اس کو موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں مقرر ہو چکا اور اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ۱۰۰ - مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزادانہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لئے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہئے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکال لے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے ۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کر کے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے ، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کر دیتے ہیں تو رہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لئے کوئی راہ کھل رہی ہو۔

آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لئے ایسی ہی ناموافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ”یثرب“ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لئے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لئے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues

Printed page