پیغمبر اسلام کا کردار
الرسالہ، جون ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
تدبر القرآن النساء م اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں کمی کرو، اگر تم کو ڈر ہارو۔ کہ کافر تم کو ستائیں گے۔ بے شک کافر لوگ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ اور جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور ان کے لئے نماز قائم کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار لئے ہوئے ہو۔ لیٹے۔ پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو وہ تمہارے پاس سے ہٹ جائیں اور دوسری جماعت آئے جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے اور وہ تمہارے ساتھ نماز پڑھیں ۔ اور وہ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ کافر لوگ چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے کسی طرح غافل ہو جاؤ تو تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور تمھارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر تم کو بارش کے سبب سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار دو اور اپنے بچاؤ کا سامان لئے رہو۔ بے شک اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ پس جب تم نماز ادا کر لو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ۔ پس جب اطمینان ہو جائے تو نماز کی اقامت کرو۔ بے شک نماز اہل ایمان پر مقرر وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ اور قوم کا پیچھا کرنے سے ہمت نہ ہو - اگر تم دکھ اٹھاتے ہو تو وہ بھی تمہاری طرح دکھ اٹھاتے ہیں اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو امید وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے - ۱۰۱ دین میں جتنے اعمال بتائے گئے ہیں، خواہ وہ نماز ہو اور زکوٰۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود واللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا نہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جس طرح جسے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلا نے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی تو جہات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں ۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو وہ اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال و جمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تا کہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز ہے کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہئے ۔
اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر سے ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام یہ کیا ہو تو گویا انھوں نے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے ۔ مومن کو دنیا میں جومصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے اس منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کر کے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو منافق ستانے والا۔
اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے ۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں ۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے ۔ وہ اس لئے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1980 All issues