Al-Risala · January 1980 · page 29

جواس کی انا کو توڑ دے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۲۹

نہ لڑتے مگر انھوں نے اختلاف کیا۔ پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور کسی نے انکار کیا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ لڑتے۔ مگر اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ۲۵۳ - ۲۵۲ اللہ کی طرف سے کوئی پکارنے والا جب لوگوں کو پکارتا ہے تو اس کی پکار میں ایسی نشانیاں شامل ہوتی ہیں کہ لوگوں کو یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے کہ وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور یہ انکار کرنے والے سب سے پہلے وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسالت کو مانتے چلے آرہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ جس رسول کو مان رہے ہوتے ہیں اس کی بعض خصوصیات کی بنا پر وہ اس کی افضلیت کا تصور قائم کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب ہمارا رسول اتنا افضل ہے اور اس کو ہم مان رہے ہیں تو اب کسی اور کو ماننے کی کیا ضرورت۔ ہر پیغمبر مختلف حالات میں آتا ہے اور اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ہر ایک کو الگ الگ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے کسی پیغمبر کو ایک فضیلت (خصوصی چیز) دی جاتی ہے اور کسی کو دوسری فضیلت۔ بعد کے دور میں پیغمبر کی یہی فضیلت اس کے امتیوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ اپنے نبی کو دی جانے والی فضیلت کو تائیدی فضیلت کے بجائے مطلق فضیلت کے معنی میں لے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے افضل پیغمبر کو مان رہے ہیں۔ اس لئے اب ہمیں کسی اور کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ حضرت موسیٰ کے ماننے والوں نے حضرت مسیح کا انکار کیا۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا نبی اتنا افضل ہے کہ خدا براہ راست اس سے ہم کلام ہوا۔ حضرت مسیح کے ماننے والوں نے نبی آخر الزماں کا انکار کیا۔ کیونکہ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایسی ہستی کو مان رہے ہیں جس کی فضیلت اتنی زیادہ ہے کہ خدا نے اس کو باپ کے بغیر پیدا کیا۔ اسی طرح اللہ کے وہ بندے جو امت محمدی کی اصلاح و تجدید کے لئے اٹھے ان کا بھی لوگوں نے انکار کیا، کیوں کہ ان کے مخاطبین کی نفسیات یہ تھی کہ ہم افضل الانبیاء کے وارث ہیں، ہم مکمل سچائی کو پائے ہوئے ہیں۔ پھر ہم کو کسی اور چیز کی کیا ضرورت۔ امتوں کے زوال کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دنیا کے راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی جنت بھی محفوظ رہے۔ اس وقت یہ عقیدہ ان کے لئے ایک نفسیاتی سہارا بن جاتا ہے۔ وہ اپنی مقدس شخصیتوں کی افضلیت کے تصور میں یہ تسکین پا لیتے ہیں کہ دنیا میں خواہ وہ کچھ بھی کریں ان کی آخرت کبھی مشتبہ نہیں ہوگی ۔ یہی غلط اعتماد ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے کی مخالفت پر جری بناتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے کوئی دوسرا نظام قائم کرتا جس میں کسی کے لئے اختلاف کی گنجائش نہ ہو۔ مگر یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے جہاں ہر فرد کو آزادی حاصل ہے کہ وہ خدا کو مانے یا اس کی نافرمانی کرے۔ انسان کی آزادی اور زمانہ سے ملنے والے الہامی خدائی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page