جواس کی انا کو توڑ دے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۰
کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، بڑا۔ دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اللہ کام بنانے والا ہے ایمان والوں کا، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے، اور جن لوگوں نے انکار کیا ان کے دوست شیطان ہیں، وہ ان کو اجالے سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ۵۷ - ۲۵۴ خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دیے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انفاق کی قیمت دے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتا ہے، جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مرادا پنے آپ کو اور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کر کے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (Sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بےحد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتا ہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے، ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کی نجات کے لئے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالک کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا۔ زار زار کیا۔ خدا آدمی کے ہر حرکت کو جاننے والا ہے کہ وہ ۳۱ کی مقصوت کا سب نے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues