خدا پرستی کیا هے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۱
خدا پرستی کیا هے
قرآن میں کہا گیا ہے: "کیا لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی دین چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اسی کے فرماں بردار ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ کہدو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا گیا ہے اور اس پر جو اتارا گیا ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اولا د یعقوب، موسیٰ عیسیٰ اور دوسرے نبیوں پر ان کے رب کی طرف سے۔ ہم ان میں باہم فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں ۔ اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوگا۔ (آل عمران ۵۷-۸۳)
اس سے معلوم ہوا کہ تمام نبیوں پر ایک ہی دین اتارا گیا ۔ اور وہ وہی ہے جو ساری کائنات کا دین ہے۔ یعنی اللہ کے لیے مطیع و مسخر ہو جانا۔ اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی میں ملا دینا، خدا کے تخلیقی منصوبے میں اپنے آپ کو ہمہ تن جوڑ دینا۔ جس شاہراہ اطاعت پر ساری کائنات چل رہی ہے، اسی پر چلنے لگنا۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: "وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے، ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم کو دوزخ کی آگ سے بچا۔ صبر کرنے والے، راستی پر چلنے والے، عاجزی کرنے والے، خرچ کرنے والے اور سحر کے وقت گناہوں کی معافی مانگنے والے اللہ کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اور فرشتوں کی اور اہل علم کی۔ وہ عدل سے انتظام کرنے والا، کوئی الٰہ نہیں بجز اس زبردست حکمت والے کے۔ یقینا دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور جو اختلاف کیا اس میں اہل کتاب نے، وہ آپس میں ضد کی وجہ سے کیا۔ جب کہ انہیں صحیح علم پہنچ چکا تھا۔ اور جو کوئی اللہ کی نشانیوں سے انکار کرے گا تو اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (آل عمران ۲۰-۱۷) گویا اللہ کو پانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس کو مدیر کائنات کی حیثیت سے پالے۔ جب آدمی اس حیثیت سے خدا کو پاتا ہے تو اس کو فوراً احساس ہوتا ہے کہ وہ سرتا پا عاجز اور حقیر ہے۔ وہ اللہ کو مدد کے لیے پکارنے لگتا ہے۔ وہ موت کے بعد زندگی کے تسلسل کو دیکھ لیتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ خدایا مجھے کو ابدی ناکامی سے بچا۔ اس کی تنہائیاں خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔ ان احساسات کے قدرتی نتیجہ کے طور پر دنیا میں لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ صبر، سچائی اور فروتنی کا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی چیز کو بھی خدا کی چیز سمجھنے لگتا ہے جس کا عملی اظہار اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔
آدمی جب خدا کی عظمتوں کے ساتھ اس کو پالیتا ہے تو اس کا یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ضد، گھمنڈ، خود پرستی جیسے پردے اس کی نگاہوں سے ہٹ جاتے ہیں اس کو صاف نظر آتا ہے کہ اصل دین یہی ہے۔ خدا کی وہ نشانیاں جو دین کی اس حقیقت کو آشکارا کر رہی ہیں، اس کو صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس جب آدمی خدا پرستی کے بجائے اپنی ذات کی پرستش کی سطح پر ہو تو ضد اور گھمنڈ کا ہالہ اس کو گھیر لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues