Al-Risala · January 1980 · page 42

خدا پرستی کیا هے

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۲

سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے"، کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے براہ راست اپنے زیر انتظام کائنات میں جو دین قائم کر رکھا ہے وہی دین انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے اختیار واراوہ کے تحت اسی آفاقی دین پر قائم ہو جائے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کو جان لینا چاہئے کہ معاملہ بالآخر اسی کے پیش ہونا ہے جو آج تم سے اطاعت وفرمان برداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پھر کیا جو خدا وسیع تر کائنات میں یہ نظام قائم کئے ہوئے ہے کہ اس کا کوئی جزو دوسرے اجزار سے ٹکرائے بغیر اپنا فریضہ ادا کرے۔ وہی خدا انسان سے اس پر راضی ہو گا کہ وہ آپس میں ٹکرائیں اور دوسرے کی بربادی پر اپنی تعمیر کا خواب دیکھیں۔ جو خدا بقیہ کائنات میں خاموش بطورِ پر تمام سرگرمیاں انجام دے رہا ہے وہی خدا انسان کے لیے یہ پسند کرے گا کہ وہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر چیخے اور فضا کو شور وغل سے بھر دے۔ جو خدا اتنا حکمت پسند ہے کہ شیشم اور چنار کے وخت کو سو سال میں مکمل کرتا ہے وہی خدا انسان کے معاملہ میں اس عجوبہ کو دیکھنا پسند کرے گا کہ وہ نعروں اور تقریروں کے کرتب دکھا ئیں اور صبح در شام میں تعمیر وترقی کا مینار کھڑا کر دیں۔ خدا کی جس دنیا میں پانی کا دھارا بہنا چاہتا ہے تو زمین اپنے راستے اس کے لئے کھول دیتی ہے۔ اسی دنیا میں خدا انسانوں سے اس بات پر خوش ہو جائے گا کہ وہ دوسرے کا اعتراف نہ کریں اور دوسرے کے فضل و کمال کو ماننے سے انکار کر دیں۔ کائنات کا ایک فرد کہیں غلاظت ڈال دے تو کروڑوں بیکٹریا وہاں جمع ہوجاتے ہیں تاکہ غلاظت کے کیمیائی اجزار کو الگ کر کے اس کو دوبارہ کائنات کے صالح اجزار کا حصہ بنادیں۔ اسی کائنات میں خدا انسان کو اس بات پر انعام دے گا کہ وہ کسی بھائی کی غلطی کو دیکھے تو اس کو دہ اس لئے پکڑلے کہ اس کے ذریعہ اس کو ذلیل کرنا ہے، غلطی کی تلافی یا درستگی سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ قرآن جس نظام آخرت کا لفظی تعارف ہے وہی نظام اللہ تعالی نے انسان کے سوا بقیہ کائنات میں آج بھی قائم کر رکھا ہے۔ یہ خدا کی خدائی کا بہت کستر اندازہ ہوگا اگر کوئی یہ سمجھے کہ قرآن میں آخرت کی کامیابی اور ناکامی کے جو اصول بتائے گئے ہیں وہ محض ترنم اور خوش الحانی کے لئے ہیں یا کائنات میں اللہ تعالی اپنے پسندیدہ نظام کو قائم کئے ہوئے ہے، اس کے سوا بھی کسی چیز پر وہ انسان سے راضی ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرآن میں دہ بندوں کو عدل پر قائم ہونے کا حکم دے۔ ساری کائنات کو حد درجہ عدل پر چلا رہا ہو۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے تو وہ غیر عادلانہ بنیادوں پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کا فیصلہ کر دے۔ اللہ نے اپنی کتاب کو نہ تو طور شاعری کے اتارا ہے اور نہ کائنات کو لٹ کھیل کے پیدا کر دیا ہے۔ اللہ نے یہ معاملہ اور عدل ہے اور اس کا فیصلہ جو

‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues

Printed page