Al-Risala · July 1980 · page 20

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۰

اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ اگر تم بھلائی کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ معاف کرنے والا قدرت رکھنے والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بیچ میں ایک راہ نکالیں۔ ایسے لوگ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کو جدا نہ کیا ان کو اللہ ان کا اجر دے گا اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ ۵۲-۱۳۸ کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لئے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہئے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں ۔ اللہ صبح و شام لوگوں کے جرائم کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کر دے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے لئے چھوٹے غم بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔

مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لئے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ ردعمل سے دو چار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دو چار ہونا پڑا۔ اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لئے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھا نچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے ۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لئے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طور پر آدمی کے ذہن کا جز دین چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانہ کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض "ایک انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے اس کو ماننے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے ۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے نہ تقلیدی ایمان کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page