Al-Risala · July 1980 · page 21

یہ قیادت ہے، خدمت نہیں

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۱

مطالبہ کر چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کو بالکل سامنے دکھا دو۔ پس ان کی اس زیادتی کے باعث ان پر بجلی آپڑی۔ پھر کھلی نشانی آچکنے کے بعد انھوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ پھر ہم نے اس سے درگزر کیا۔ اور موسیٰ کو ہم نے کھلی حجت عطا کی ۔ اور ہم نے ان کے اوپر کوہ طور کو اٹھایا۔ ان سے عہد لینے کے واسطے ۔ اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہو سرحد کات ہوۓ اور ان سے کہا کہ سبت کے معاملہ میں زیادتی نہ کرنا۔ اور ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس لئے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائنوہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کر لیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لئے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کر رہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھا ؤیا خدا خود تمہاری تصدیق کے لئے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمہاری بات مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیونکہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لئے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی دہ بے فائدہ ہو گا۔ کیونکہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہو گا نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کر دے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کر رہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔ کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کر کے یہود سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (باب) میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لئے جو جد و جہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں نہ کہ اس سے آزاد ہوکر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عہدوں کو توڑ دیا۔

"موسیٰ کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت ) دی اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگر چہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کر رہے ہوتے ہیں ۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتا ہے جس کے بعد وہ اس کو رد کر کے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues

Printed page