بگاڑ کیسے آتا ہے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۰، صفحہ ۳۳
بگاڑ کیسے آتا ہے
یہود کی گمراہی کیا تھی جس کی وجہ سے وہ خدا کے غضب کے مستحق ہو گئے، وہ یہ نہ تھی کہ انھوں نے دین کا نام لینا یا دینی مراسم پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ظاہری دین داری ان کے یہاں بڑے پیمانے پر جاری تھی۔ ان کی گمراہی قرآن کے الفاظ میں یہ تھی کہ انھوں نے آخرت کے بددے دنیا کی زندگی خرید لی (بقرہ ۸۶) ان کے یہاں خدا کے نبیوں کا چرچا تھا اور خدا کے دین کے نام پر ہنگامے جاری تھے۔ مگر یہ سب کچھ آخرت کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے تھا۔ وہ چیز جس کو لے کر آخرت ملتی ہے، اس کو انھوں نے دنیا حاصل کرنے کا سستا سودا بنا لیا تھا۔ وہ دین کے نمائش یکاموں کا مظاہرہ کرتے تھے مگر اپنی حقیقی عملی زندگی میں دنیا کو ترجیح دے ہوئے تھے۔
یہود کی قدیم مذہبی کتابوں میں ان کی جو تصویر ملتی ہے وہ اس قرآنی بیان کی پوری تفسیر ہے۔ تو رات میں یہود کی قومی ترقی یا ان کی قومی تباہی تفصیل سے ملے گی۔ مگر پوری کتاب پڑھ جائے اور آپ کو کہیں آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا ذکر نہیں ملے گا۔ ان کی مقدس کتابوں کا خلاصہ صرف یہ نظر آتا ہے کہ ۔ مذہب کے طریقہ پر چلو تاکہ تم کو دنیا کی کامیابی حاصل ہو، قوم کو اقتدار ملے۔ یہود ایک معزز اور سر بلند قوم بن جائیں۔
یہ صرف یہود کی خرابی نہیں۔ کتاب آسمانی کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کی حالت یہی ہو جاتی ہے۔ اس کے افراد کی ذاتی زندگی اور اس کی جماعتوں کی عمومی سرگرمیاں دنیا کے رخ پر چل پڑتی ہیں، مگر اسی کے ساتھ خدا در رسول کا چر چا اس طرح جاری رہتا ہے گویا یہ سب کچھ صرف آخرت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ان کے دین کا بے حقیقت ہونا اس وقت بالکل واضح ہو جاتا ہے جب کہ ان کی اپنی ذات کی سطح پر ان کی دین داری کا تجربہ کیا جائے ۔ وہ اگر چہ خدا کی کتاب کے حوالے سے دوسروں کو نیکی کی نصیحت کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کے افراد کی اپنی زندگیاں اس نیکی سے خالی ہوتی ہیں (بقرہ (۴۴)۔ ان کا ایک واعظ لوگوں سے کہے گا کہ خدا سے ڈرو۔ لیکن جب اس کا معاملہ کسی ایسے شخص سے پڑ جائے گا جہاں خود اس کو خدا سے ڈرنا چاہئے تو وہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسے کہ اس کا دل بالکل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔ اس کا ایک مقرر دوسروں کو اخلاق اور انسانیت کا سبق دے گا۔ لیکن اگر ایک شخص مقرر پر تنقید کر دے تو وہ فوراً بگڑ اٹھے گا اور اپنے ناقد کے خلاف ہر قسم کے غیر انسانی سلوک کو اپنے لئے جائز قرار دے گا۔ اس کا ایک مصلح دوسروں سے کہے گا کہ خدا کے دین کے لئے جیو اور خدا کے دین کے لئے مرو۔ لیکن اگر کسی سے اس کو ٹھیس پہنچ جائے تو وہ بھڑک کر اس کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا گویا کہ وہ شیطان کا ساتھی بنا ہوا ہے اور فرضی طور پر خدا کا درس دے رہا ہے۔ ان کا قائد مظلوم ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے پر شور تقریریں کرے گا مگر مظلوم فرد کی داد رسی سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہوگی۔
ہدایت صرف وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو ہدایت کی لگام دے رکھی ہے۔ جو دوسروں سے کوئی بات کہنے سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1980 All issues