یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۲
ان کو جو سزا ملی وہ اس پر کہ انھوں نے اپنے عہد کو توڑا اور اس پر کہ انھوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس پر کہ انھوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو بند ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے انکار کے سبب سے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے تو وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے انکار پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے مسیح بن مریم، اللہ کے رسول کو قتل کر دیا ۔ حالاں کہ انھوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس کا کوئی علم نہیں، وہ صرف اٹکل پر چل رہے ہیں۔ اور بے شک انھوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے ۱۵۸۔
یہود پر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیا البتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود قہرہم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے " ہمارے دل تو بند ہیں" ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔
جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہو جاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لئے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔ اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجکتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ "مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مار ڈالا" مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور ہر مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کر لیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں یہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues