یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۳
اہل کتاب میں سے کوئی ایسا وہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔ پس یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو ان کے لئے حلال تھیں۔ اور اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی راہ سے بہت رو کتے تھے۔ اور اس وجہ سے کہ وہ سود لیتے تھے حالانکہ اس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھاتے تھے۔ اور اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ مگر ان میں جو لوگ علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو تمہارے اوپر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی اور وہ نماز کے پابند ہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم ضرور بڑا اجر دیں گے ۔ ۶۲ - ۱۵۹ عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لا يموت النصرانی ولا اليهودی حتی يؤمن بمحمد صلى الله عليه وسلم) یہود و نصاری کے پاس آسمانی علم تھا ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت اصل خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پر د ےہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے، موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کر لیتا ہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔
جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لئے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام و حلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کر کے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین محض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے نہ کہ اللہ والا بنے پر۔ چنانچہ نہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع کئے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لئے ہوتے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔
یہودیوں میں چند لوگ ، عبداللہ بن سلام وغیرہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر خالص آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues