یہ قیادت ہے، خدمت نہیں
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۰، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن النساء ۴ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے جس طرح ہم نے نوح اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف وحی بھیجی تھی ۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی تھی ۔ اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔ اور ہم نے ایسے رسول بھیجے جن کا حال ہم تم کو پہلے سنا چکے ہیں اور ایسے رسول بھی جن کا حال ہم نے تم کو نہیں سنایا۔ اور موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا۔ اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے - ۱۶۳ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لئے ہے۔ وہ اس لئے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طور پر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقررہ مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کر دیے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طور پر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لئے اللہ نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تا کہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الہیٰ منصوبہ کا پتہ نہ تھا کہ ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔ اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنیٰ یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پر چہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ایک تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوں نے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جائے گا۔ تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔ البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان کو خدا کی تائید مختلف صورتوں میں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لئے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے تا کہ وہ اپنی دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1980 All issues